جسم فروش خواتین کی 'زبردستی مدد': بھارتی سپریم کورٹ نے پولیس کو 70 سال پرانے قانون کا پابند کردیا

سپریم کورٹ نے بالغ سیکس ورکرز کو اپنی زندگی اور فیصلوں کے بارے میں خود اختیار حاصل ہے۔
اپ ڈیٹ 01 جون 2026 02:15pm

بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ اگر بالغ افراد اپنی مرضی اور رضامندی سے جنسی عمل کرتے ہیں تو یہ خود میں غیر قانونی نہیں ہے، اور پولیس کو ایسے افراد کو ہراساں کرنے یا ان کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ فیصلہ انسانی اسمگلنگ اور جبری جنسی استحصال کے مقدمات سے متعلق ایک سماعت کے دوران سامنے آیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جنسی کاروبار میں رضامندی سے شامل بالغ افراد کے ساتھ قانون کا رویہ مختلف ہونا چاہیے، اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے کہا کہ اگرچہ کوٹھے چلانا قانون کے مطابق غیر قانونی ہے، لیکن صرف اس وجہ سے بالغ جنسی کارکنوں کو گرفتار کرنا یا چھاپوں کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا درست نہیں۔ عدالت کے مطابق پولیس کو ایسے معاملات میں احتیاط برتنی چاہیے اور رضامند بالغ افراد کو ”ریسکیو“ کے نام پر زبردستی کسی عمل کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ بحالی اور دوبارہ معاشرے میں شامل کرنے کے عمل میں سب سے اہم بات متاثرہ افراد کی رضامندی ہونی چاہیے۔ عدالت نے زور دیا کہ ریاست کسی بھی بالغ فرد پر زبردستی بحالی کا عمل مسلط نہیں کر سکتی۔

عدالت نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ ستّر سال پرانا قانون جسے ”امورل ٹریفک پریوینشن ایکٹ“ کہا جاتا ہے، اکثر ہر ایسے شخص کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے جو جنسی کاروبار سے جڑا ہو، چاہے وہ مجبور کیا گیا ہو یا اپنی مرضی سے اس شعبے میں آیا ہو۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کا ایک جیسا رویہ ہر کیس کی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔

فیصلے میں یہ اصول بھی سامنے آیا کہ بالغ جنسی کارکنوں کو اپنی زندگی اور فیصلوں کے بارے میں خود اختیار حاصل ہے، اور انہیں صرف اسی وقت مدد دی جا سکتی ہے جب وہ خود یہ مدد چاہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ بحالی کا عمل ہمدردی پر مبنی ہو سکتا ہے، لیکن اسے زبردستی نہیں بنایا جا سکتا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب عدالت انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے حوالے سے رہنما اصول طے کرنے پر غور کر رہی تھی۔ عدالت نے کہا کہ ہر کیس کو اس کی انفرادی صورتحال اور متعلقہ شخص کی رضامندی کو سامنے رکھ کر دیکھا جانا چاہیے۔

Read Comments