ایران امریکا مذاکرات: عالمی مارکیٹ میں اچانک خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے اور آبنائے ہرمز سمیت اہم آبی راستوں کی ممکنہ بندش کے خدشات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورت حال نے قیمتوں کو ایک بار پھر اوپر دھکیل دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بین الاقوامی توانائی مارکیٹ میں اس وقت تیزی دیکھی گئی جب ایرانی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے اس فیصلے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،۔ برینٹ کروڈ، جو عالمی سطح پر خام تیل کا اہم معیار سمجھا جاتا ہے، تقریباً 6 فیصد اضافے کے ساتھ 97.02 سے 97.14 ڈالر فی بیرل کے درمیان ٹریڈ کرتا رہا۔
اسی طرح امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 7 فیصد سے زائد بڑھ کر تقریباً 93.93 سے 94.04 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مذاکراتی ٹیم نے ثالثوں کے ذریعے ہونے والے رابطوں اور پیغامات کے تبادلے کو بھی روک دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے لبنان اور غزہ میں جاری کارروائیوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں کیا گیا۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ ایران اور اس کے اتحادی “مزاحمتی محاذ” نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور دیگر اہم آبی راستوں بشمول باب المندب کو محدود کرنے جیسے اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق مذاکرات کی معطلی نے اس امید کو کمزور کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی ممکنہ معاہدہ ہو سکتا ہے، جو خطے میں کشیدگی میں کمی کا باعث بنتا۔ اس پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے خام تیل کی خریداری بڑھا دی۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی میں بالترتیب تقریباً 19 فیصد اور 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو مارچ 2020 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ تھی۔ تاہم حالیہ صورت حال نے ایک بار پھر قیمتوں کو اوپر کی سمت دھکیل دیا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ خطے کی سیاسی صورت حال سے براہ راست جڑا ہوا ہے جب کہ سپلائی سائیڈ خطرات نے موجودہ صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں استحکام کے باوجود تیل کی قیمتیں جغرافیائی کشیدگی کے اثرات سے متاثر ہو رہی ہیں۔
مزید برآں روس، سعودی عرب، قازقستان اور دیگر بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پیداوار اور برآمدی پالیسیوں سے بھی عالمی منڈی متاثر ہو رہی ہے جب کہ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کسی بھی مزید کشیدگی کی صورت میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔