لبنان پر حملوں کی دھمکی پر ٹرمپ بھڑک گئے، نیتن یاہو کو فون پر پاگل اور ناشکرا قرار دے دیا: ایگزیوس

میں نہ ہوتا تو تم جیل میں سڑ رہے ہوتے، ان ہی حرکتوں کی وجہ سے دنیا تم سے اور اسرائیل سے نفرت کرتی ہے: صدر ٹرمپ کی نیتن یاہو پر شدید تنقید
شائع 02 جون 2026 08:34am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان لبنان کی صورتِ حال پر ہونے والی ایک فون کال میں شدید تلخ کلامی ہوئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کی لبنان میں بڑھتی ہوئی جارحیت پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور نیتن یاہو سے انتہائی بدزبانی سے پیش آئے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق اس معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ہونے والی فون کال میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور انتہائی سخت زبان استعمال کی۔

اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ماضی میں بھی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں لیکن امریکی حکام کے مطابق حالیہ فون کال دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت ترین گفتگو تھی۔

ٹرمپ کو خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے بیروت پر ممکنہ حملے کے منصوبے پر اعتراض تھا۔ انہوں نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل لبنانی دارالحکومت پر حملہ کرتا ہے تو وہ دنیا میں مزید تنہا ہو کر رہ جائے گا۔

ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو پر چیختے ہوئے کہا کہ ’تم پاگل ہو گئے ہو، یہ تم کیا کر رہے ہو؟‘۔

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ان کے خلاف کرپشن مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہی نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچایا تھا۔ ایک امریکی اہلکار نے ٹرمپ کی گفتگو کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی صدر کا کہنا تھا ’میں تمہیں بچا رہا ہوں لیکن تمہاری حرکتوں کی وجہ سے آج سب تم سے نفرت کرتے ہیں اور اب پوری دنیا اسرائیل سے بھی نفرت کرنے لگی ہے‘۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ حزب اللہ اسرائیل پر حملے کر رہی ہے اور اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن ان کا خیال ہے حالیہ دنوں میں نیتن یاہو نے حد سے تجاوز کیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے لبنان میں شہریوں کی ہلاکتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے محض ایک کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارت کو زمین بوس کرنے کے اسرائیلی طریقہ کار پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔

ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ کی شدید برہمی کی بنیادی وجہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث ایران کی امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات ترک کرنے کی دھمکی تھی۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیوں کہ امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ بحث ایک ممکنہ معاہدے میں لبنان میں لڑائی کے خاتمے کی شق بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ واشنگٹن کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

اس تلخ ٹیلی فونک کال کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اب بیروت میں حزب اللہ کے اہداف پر حملے کے منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

تاہم اس کال کے بعد نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک رسمی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے ٹرمپ پر واضح کیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے حملے نہ روکے تو اسرائیل بیروت پر حملے شروع کر دے گا۔

Read Comments