لہو میں رنگی تاریخ کا ایک باب: اسرائیلی فوج کے قبضے میں موجود لبنان کے صلیبی قلعے کی اہمیت
اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان میں واقع 900 سال قدیم تاریخی ’بیوفورٹ قلعے‘ پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ قلعہ یونیسکو (اقوامِ متحدہ) کے ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے، جو اپنی انتہائی اہم تزویراتی اہمیت کے لیے جانا جاتا ہے۔ اسرائیل نے 1982 سے 2000 تک جنوبی لبنان پر قبضے کے دوران اسے اپنی اہم ترین فوجی چوکی کے طور پر استعمال کیا تھا، بعد میں یہ قلعہ حزب اللہ کی مزاحمت کی ایک علامت کے طور پر جانا جاتا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان کے تاریخی بیوفورٹ قلعے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
دریائے لیتانی کے اوپر ایک اونچی پہاڑی پر واقع بیوفورٹ قلعہ خطے کے لیے ایک اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ اس مقام سے مشرق میں 10 کلومیٹر دور اسرائیلی کی زیرِ قبضہ ’گولان کی پہاڑیوں‘ اور مغرب میں 25 کلومیٹر دور بحیرہ روم کا واضح نظارہ کیا جا سکتا ہے۔
12ویں صدی میں صلیبیوں کے دور میں تعمیر ہونے والے اس قلعے کو عظیم مسلم فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی نے بھی فتح کیا تھا جب کہ مختلف ادوار میں ’نائٹس ٹیمپلر‘ اور مملوک حکمرانوں کا بھی اس پر قلعے پر کنٹرول رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی تجزیہ کار ریاض قہوجی کے مطابق، ڈرون وارفیئر کے اس جدید دور میں بھی زمینی کارروائیوں کے لیے اس قلعے کی عسکری اہمیت برقرار ہے۔
لبنان کی خانہ جنگی کے دوران فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) نے اس قلعے کو اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا تھا۔
1982 میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو اس نے بیوفورٹ قلعے کو جنوبی لبنان میں اپنی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا۔ قلعے کی دیواروں پر آج بھی 1970 اور 1980 کی دہائیوں کی لڑائیوں کے نشانات موجود ہیں۔
لبنانیوں کے لیے یہ قلعہ اسرائیلی قبضے کی ایک نمایاں علامت بن گیا تھا کیونکہ یہاں اسرائیلی پرچم مسلسل لہراتا رہتا تھا اور اسرائیلی فوجی پورے علاقے پر نظر رکھتے تھے۔
کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے محقق مہند حاج علی کے مطابق بیوفورٹ پر اسرائیل کی واپسی بہت سے لبنانیوں کو اس دور کی یاد دلاتی ہے جب جنوبی لبنان پر اسرائیل کا براہِ راست کنٹرول تھا۔
سن 2000 میں اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے انخلا کے بعد یہی قلعہ حزب اللہ کے لیے فتح اور مزاحمت کی علامت بن گیا تھا۔ اس وقت قلعے پر لہرانے والا زرد پرچم حزب اللہ کی کامیابی کے پیغام کا اہم حصہ تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس قلعے پر قبضے کو ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یہ مقام اسرائیلی معاشرے میں اختلافات کی علامت تھا لیکن اب اسرائیل یہاں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر واپس آیا ہے۔
2006 کی اسرائیل-حزب اللہ جنگ کے بعد بیوفورٹ قلعہ زیادہ تر عرصہ ایک سیاحتی مقام کے طور پر استعمال ہوتا رہا اور اس کی بحالی کا کام بھی کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کے مطابق بیوفورٹ مشرقِ وسطیٰ کے بہترین محفوظ رہنے والے قرونِ وسطیٰ کے قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ رواں سال یونیسکو نے اسے تنازعات کے دوران خصوصی تحفظ کے حامل تاریخی مقامات کی فہرست میں بھی شامل کیا ہے۔
موجودہ جنگ کے دوران اس قلعے پر دوبارہ قبضہ ثابت کرتا ہے کہ جنوبی لبنان میں جاری تنازع صرف عسکری لڑائی تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں صدیوں پر محیط تاریخ، قبضوں اور جنگوں سے جڑی ہیں۔