دمے کے مریض ان ہیلر سے کیوں ڈرتے ہیں؟

ان ہیلر کوئی کمزوری نہیں بلکہ زندگی کو نارمل گزارنے کا ایک ذریعہ ہے۔
شائع 02 جون 2026 01:28pm

طبی ماہرین کے مطابق دمہ کے مریضوں میں ان ہیلر کے استعمال کے حوالے سے غلط فہمیاں اور خوف اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، جس کے باعث کئی مریض بروقت علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔

دمہ کا حملہ اکثر بہت خاموشی سے شروع ہوتا ہے، جیسے سینے میں جکڑن محسوس ہونا، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس پھولنا یا ایسی کھانسی جو ٹھیک نہ ہو رہی ہو۔ لیکن بہت سے مریضوں کے لیے اصل پریشانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب ڈاکٹر انہیں ان ہیلر استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ہمارے ملک میں آج بھی کچھ لوگ اسے دوسروں سے چھپا کر رکھتے ہیں، کچھ طبیعت تھوڑی بہتر ہوتے ہی اس کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں اور بہت سے تو اس ڈر سے ان ہیلر لیتے ہی نہیں کہ ایک بار یہ شروع ہو گیا تو زندگی بھر نہیں چھوٹتا۔ یہی ڈر مریضوں کو فائدے کے بجائے بڑا نقصان پہنچاتا ہے۔

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف بیماری کا نہیں بلکہ لوگوں کی سوچ کا ہے، کیونکہ ان ہیلر سے جڑی غلط فہمیاں اور افواہیں مریض کو صحیح علاج سے دور رکھتی ہیں۔

سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ان ہیلر کی عادت یا لت پڑ جاتی ہے۔ یہ وہ بات ہے جو ڈاکٹر روزانہ مریضوں سے سنتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان ہیلر انسان کو اپنا محتاج بنا دیتا ہے، جبکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ دمہ ایک پرانی بیماری ہے، بالکل شوگر یا بلڈ پریشر کی طرح، جس پر قابو پانے کے لیے مسلسل دوا لینی پڑتی ہے۔ ان ہیلر کوئی نشہ یا عادت نہیں ہے بلکہ یہ پھیپھڑوں کی سوجن کو ختم کرتا ہے۔

ان ہیلر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ پورے جسم میں دوا پھیلانے کے بجائے براہ راست پھیپھڑوں میں دوا کی بہت چھوٹی سی مقدار پہنچاتا ہے، جس سے آرام بھی جلدی آتا ہے اور جسم پر دوا کے برے اثرات بھی نہیں ہوتے۔ ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ جو لوگ ان ہیلر کے ڈر سے علاج نہیں کرواتے، انہیں بعد میں حالت زیادہ خراب ہونے پر ہسپتال جانا پڑتا ہے۔

دوسرا بڑا خوف لفظ اسٹیرائڈ سے جڑا ہے۔ بہت سے خاندان اس لفظ کو سنتے ہی پریشان ہو جاتے ہیں کہ اس سے وزن بڑھ جائے گا، جسم کمزور ہو جائے گا یا کوئی بڑا نقصان ہو جائے گا۔

ماہرین وضاحت کرتے ہیں کہ ان ہیلر میں موجود اسٹیرائڈز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور یہ براہِ راست پھیپھڑوں میں اثر کرتے ہیں، جس سے جسم پر منفی اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ۔

بے قابو دمہ خود اس علاج سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جس سے مریض ڈرتے ہیں، کیونکہ تمام طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ان ہیلر کے فائدے کسی بھی معمولی خطرے سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے مریض پڑوسیوں یا رشتہ داروں کے کہنے پر خود ہی دوا کا استعمال بند کر دیتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔

بعض اوقات مریضوں کو لگتا ہے کہ ان ہیلر اثر نہیں کر رہا، لیکن اصل میں مسئلہ دوا کا نہیں بلکہ اسے استعمال کرنے کے طریقے کا ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز کے نزدیک ایک بڑی تعداد ان ہیلر کا درست استعمال نہیں کرتی۔

کچھ لوگ دوا کا سپرے بہت جلدی کرتے ہیں، کچھ سانس غلط طریقے سے لیتے ہیں اور کچھ دوا کھینچنے کے بعد سانس کو اندر نہیں روکتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دمہ قابو میں نہیں آتا اور مریض مایوس ہو کر علاج چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ڈاکٹر مریضوں کو خود اپنے سامنے ان ہیلر استعمال کرنے کا طریقہ سکھاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک خاموش مسئلہ اس دوا کے ساتھ جڑی شرمندگی بھی ہے۔ نوجوان اسکولوں میں، نوکری پیشہ افراد دفتروں میں اور بزرگ گھروں میں ان ہیلر استعمال کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ وہ بہت زیادہ بیمار ہیں۔ دنیا بھر میں تقریباً چالیس فیصد مریض شرم یا خوف کی وجہ سے اپنے علاج پر صحیح عمل نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب سوچ بدلنے کی ضرورت ہے، ان ہیلر کوئی کمزوری نہیں بلکہ بالکل عینک، انسولین یا بلڈ پریشر کی دوا کی طرح زندگی کو نارمل گزارنے کا ایک ذریعہ ہے۔ دمہ کا علاج اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتا جب تک مریض خوف کے بجائے ڈاکٹر پر اور افواہوں کے بجائے سچ پر بھروسہ نہیں کریں گے۔

Read Comments