ڈھائی سیکنڈ میں 96 کلومیٹر کی رفتار: فراری کی نئی کار شاہکار یا سب سے بڑی غلطی؟

رونمائی کے اگلے ہی دن فراری کے شیئرز کی قیمتوں میں آٹھ فیصد کی نمایاں کمی: کیا فراری کا روایتی جلال مٹ گیا؟
شائع 02 جون 2026 01:25pm

عالمی شہرت یافتہ لگژری کار کمپنی ”فراری“ کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی رونمائی کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو کو بھی دھچکا پہنچا ہے۔

آئی فون کے معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے فکری تصور سے تخلیق پانے والی اس نئی کار کا نام ’لُوچے‘ (Luce) رکھا گیا ہے، جس کا اطالوی زبان میں مطلب ’روشنی‘ ہے۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار پانچ نشستوں پر مشتمل اس الیکٹرک کار کو ڈھائی سیکنڈ میں زیرو سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی غیر معمولی رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس گاڑی کی مالیت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر یعنی پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 18 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔

فراری کی اس پہلی مکمل الیکٹرک کار(ای وی) کی تقریبِ رونمائی میں اٹلی کے صدر اور عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس بڑی رونمائی کے اگلے ہی دن فراری کے شیئرز کی قیمتوں میں آٹھ فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ناقدین، سرمایہ کاروں اور سیاست دانوں کی جانب سے اس کار کے ڈیزائن پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

فراری کے سابق چیئرمین لوکا کورڈیرو ڈی مونتیزیمولو نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نیا ماڈل فراری کے تاریخی افسانوی برانڈ کو تباہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق، کمپنی کو اس گاڑی سے اپنا روایتی پریسنگ ہارس یعنی اچھلتے ہوئے گھوڑے کا لوگو ہٹا دینا چاہیے۔

کار ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کار کا بیرونی ڈھانچہ روایتی فراری گاڑیوں کی طرح نیچا اور اسٹریم لائن نہیں ہے، جبکہ الیکٹرک انجن کی وجہ سے اس میں فراری کی وہ مخصوص گرجدار آواز بھی غائب ہے جو اس برانڈ کا خاصہ رہی ہے۔

اٹلی کے نائب وزیر اعظم ماتیو سالوینی نے بھی اس پر سوال اٹھایا کہ کیا یہی اصل جدت ہے اور کہا کہ گاڑی فراری کی کلاسیکی شناخت سے مختلف لگتی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے اس کے ڈیزائن کا موازنہ سستی الیکٹرک گاڑیوں سے کیا اور کئی افراد نے اسے غیر متاثر کن قرار دیا۔ کچھ صارفین نے مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے متبادل ڈیزائن بھی شیئر کیے جو ان کے مطابق زیادہ بہتر تھے۔

صنعتی چیلنجز اور مقابلہ

فراری کا الیکٹرک مارکیٹ میں یہ قدم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور بڑی آٹو موبائل کمپنیاں اپنے الیکٹرک منصوبوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔

فراری کی حریف کمپنی لیمبورگنی نے صارفین کی پٹرول انجن میں دلچسپی کے باعث اپنے مکمل الیکٹرک منصوبے ختم کر کے ہائبرڈ گاڑیوں پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ اسی طرح پورشے اور فورڈ نے بھی اپنے برقی منصوبوں کو محدود کر دیا ہے۔

ان کمپنیوں کو بین الاقوامی مارکیٹ خصوصاً چین میں سستی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس چینی برقی گاڑیوں سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ تاہم فراری کے موجودہ سربراہ بینی ڈیٹو وینا نے تمام تر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ قیمت کار کی جدت کی عکاس ہے اور ممکنہ خریداروں کی جانب سے اس گاڑی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Read Comments