آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت تیز، ایران کا 24 جہازوں کو اجازت دینے کا دعویٰ

شرپسند غیر ملکی عناصر کے لیے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کوئی جگہ نہیں ہوگی: پاسدارانِ انقلاب
اپ ڈیٹ 02 جون 2026 06:16pm

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باوجود تیل اور گیس کی ترسیل میں محدود پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 24 تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے دو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج سے باہر نکل گئے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایک ایل این جی ٹینکر نے گیس کا کارگو بھی لوڈ کر لیا ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو ٹینکر تیل کی مصنوعات لے کر آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے، جب کہ ایک مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز نے متحدہ عرب امارات میں کارگو لوڈ کیا۔ اگرچہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کئی تجارتی جہاز خلیج سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے ہیں، تاہم ایران اور امریکا۔اسرائیل کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی ترسیل اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

شپنگ ڈیٹا کے مطابق ’’سی وکٹریئس‘‘ نامی افرا میکس ٹینکر کم از کم 80 ہزار ٹن ہائی سلفر فیول آئل لے کر ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرا۔ یہ جہاز عراق کی خور الزبیر بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور توقع ہے کہ جون کے دوسرے نصف میں ملائیشیا پہنچ جائے گا۔

اسی طرح ’’ایس ٹی آئی ایلیسیز‘‘ نامی ایک اور ٹینکر بھی جمعہ کے روز آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ یہ جہاز کویت سے صاف شدہ تیل کی مصنوعات لے کر روانہ ہوا تھا، تاہم اس کی حتمی منزل کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آئیں۔

دوسری جانب ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے زیر انتظام ’’میری گولڈ‘‘ ایل این جی ٹینکر نے 24 اور 25 مئی کو متحدہ عرب امارات کے داس آئی لینڈ ٹرمینل سے گیس کا کارگو لوڈ کیا۔ شپنگ تجزیاتی ادارے ووَرٹیکسا کے مطابق اس جہاز نے 3 مئی کو اپنا خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) بند کر دیا تھا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اس کی نقل و حرکت باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں نے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ (آئی آر جی سی نیوی) سے پیشگی اجازت حاصل کی تھی اور ان کی نقل و حرکت متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت انجام پائی۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز پر ’’ذہانت پر مبنی کنٹرول‘‘ مکمل اختیار کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ بیان کے مطابق آئی آر جی سی نیوی بحری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی اور کنٹرول کر رہی ہے جبکہ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت مقررہ قواعد، پیشگی اجازت اور باہمی رابطے کے تحت جاری رکھی جا رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں شرپسند غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی اور خطے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔

ماہرین کے مطابق بعض تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اپنی شناختی نشریات عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اسی لیے اس آبی راستے کی صورتحال پر عالمی توانائی منڈیاں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Read Comments