ایران اور امریکا کے درمیان رابطے منقطع نہیں ہوئے، مذاکرات جاری ہیں: صدر ٹرمپ

ایران سے مسلسل بات چیت ہو رہی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ تہران کسی معاہدے پر پہنچے، امریکی صدر
شائع 02 جون 2026 11:51pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان رابطے منقطع ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے ختم ہونے یا مذاکرات رک جانے سے متعلق رپورٹس غلط اور گمراہ کن ہیں۔

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ کئی روز سے مسلسل رابطے اور بات چیت جاری ہے، جب کہ دونوں فریق آج بھی ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے، تاہم انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدہ کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتِ حال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

صدر ٹرمپ کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی اور ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق واشنگٹن سفارتی راستے کو کھلا رکھے ہوئے ہے، تاہم ایران کو بھی معاملات کے حل کے لیے عملی پیش رفت کرنا ہوگی۔

ان سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور بعض معاملات پر پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق امکان ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض ایسے پہلوؤں پر آمادگی ظاہر کی ہے جن پر وہ ماضی میں رضامند نہیں تھا۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ مذاکرات جاری ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی نظر میں مذاکرات کی اہم شرائط میں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی بھی شامل ہے اور ایران کو واضح طور پر اس آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کا اعلان کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے معاملے پر بھی ٹھوس وعدے کرنا ہوں گے، جب کہ ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی مخصوص شرائط سے مشروط ہوگی۔ مارکو روبیو کے مطابق صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دینا پابندیوں میں نرمی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرمیاں تیز کی جا رہی ہیں، جسے واشنگٹن سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

Read Comments