اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق، ایران سے معاہدہ کتنا قریب؟
امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر اتفاق کرتے ہوئے باہمی رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق تنازع کے حل اور خطے میں استحکام کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں گے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امن و استحکام کے قیام کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیل اور لبنان 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے تاکہ طے پانے والے معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملے مکمل طور پر بند کیے جائیں گے، جبکہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری رہیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل اور لبنان گزشتہ ماہ بھی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، تاہم اس کے باوجود جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی شروع کی تھی، جس نے تہران کی حمایت میں سرحد پار حملے کیے تھے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل سے خطے میں تناؤ میں کمی آئے گی اور فریقین کے درمیان دیرپا استحکام کے لیے راہ ہموار ہوگی۔
دوسری جانب اس پیش رفت کو ایران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع تر معاہدے کی امیدوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ابتدائی معاہدے کی جانب پیش رفت کا اشارہ دیا تھا، تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے گئے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز لبنانی نشریاتی ادارے ”المیادین“ سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا، تاہم اب تک کوئی نمایاں پیش رفت بھی نہیں ہو سکی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں لڑائی کے خاتمے کے علاوہ اسے اربوں ڈالر کی تیل آمدنی تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اثرورسوخ برقرار رکھنے کی ضمانت بھی درکار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے لیے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر آمادہ ہو چکا ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مذاکرات میں شامل ہیں۔
بعد ازاں ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت اسی ہفتے کے اختتام پر سامنے آ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فریقین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے کو لبنان کے تنازع سے الگ کرنے پر کام کر رہے ہیں۔