پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان فیصلہ کن ون ڈے مقابلوں میں کس کا پلڑا بھاری؟
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین میچوں کی ون ڈے سیریز کا فیصلہ کن مقابلہ آج لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے، دونوں ٹیمیں ایک، ایک میچ جیت چکی ہیں جب کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان کھیلے گئے دوطرفہ سیریز کے فیصلہ کن ون ڈے مقابلوں میں پاکستان کو واضح برتری حاصل رہی ہے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ون ڈے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن میچ سے قبل دونوں ٹیموں کے ماضی کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو دوطرفہ سیریز کے فیصلہ کن مقابلوں میں پاکستان نے زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
1988 میں لاہور میں کھیلے گئے فیصلہ کن مقابلے میں پاکستان نے کم وکٹیں گنوانے کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس میچ میں مدثر نذر نے ناقابل شکست 76 رنز بنائے تھے جب کہ وسیم اکرم نے تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔
2002 میں برسبین کے گابا گراؤنڈ میں کھیلے گئے سیریز کے فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے 91 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ وسیم اکرم کی ذمہ دارانہ بیٹنگ اور شعیب اختر کی تباہ کن بولنگ اس فتح کی نمایاں خصوصیات تھیں۔
2012 میں شارجہ میں کھیلے گئے فیصلہ کن میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو تین وکٹوں سے شکست دی۔ مائیکل ہسی اور گلین میکسویل نے ہدف کے تعاقب میں اہم کردار ادا کیا۔
2022 میں آسٹریلیا کے طویل عرصے بعد پاکستان کے دورے کے دوران لاہور میں کھیلے گئے فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے 9 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ بابر اعظم نے 105 اور امام الحق نے ناقابل شکست 89 رنز اسکور کیے تھے۔
2024 میں پاکستان نے آسٹریلیا کی سرزمین پر تاریخی سیریز اپنے نام کی۔ پرتھ میں کھیلے گئے فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 140 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔
آئی سی سی اور کثیر ملکی ٹورنامنٹس میں آسٹریلیا کا پلڑا بھاری
اگرچہ پاکستان کو دونوں ٹیموں کے درمیان دوطرفہ ون ڈے سیریز کے فیصلہ کن مقابلوں میں برتری حاصل ہے تاہم آئی سی سی ایونٹس اور کثیر ملکی ٹورنامنٹس کے فیصلہ کن مقابلوں میں صورت حال مختلف رہی ہے، جہاں آسٹریلیا کا ریکارڈ زیادہ بہتر رہا ہے، ان میں 1987 ورلڈ کپ سیمی فائنل، 1999 ورلڈ کپ فائنل اور 2015 ورلڈ کپ کوارٹر فائنل شامل ہیں۔
1987 کے ون ڈے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں لاہور میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 18 رنز سے شکست دی تھی اور بعد ازاں ٹورنامنٹ بھی اپنے نام کیا۔
1990 میں بی اینڈ ایچ ورلڈ سیریز کے فائنلز میں آسٹریلیا نے بہترین آف تھری سیریز 0-2 سے جیتی جب کہ اسی سال شارجہ میں کھیلے گئے آسٹرل ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 36 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔
1994 کی ٹرائی سیریز کے فائنل میں آسٹریلیا نے 64 رنز سے کامیابی حاصل کی جب کہ 1999 کے ورلڈ کپ فائنل میں لارڈز کے میدان پر پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی۔
2000 کے کیوب سیریز فائنلز اور 2005 کی وی بی سیریز فائنلز میں بھی آسٹریلیا نے بیسٹ آف تھری سیریز 0-2 سے اپنے نام کیں۔
2001 کی ٹرائی سیریز کے فائنل میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 9 وکٹوں سے شکست دی جب کہ 2004 کے ویڈیو کون کپ فائنل میں 17 رنز سے کامیابی حاصل کی۔
اسی طرح 2015 کے آئی سی سی ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی تھی اور بعد میں ورلڈ کپ ٹرافی بھی جیت لی تھی۔
ون ڈے سیریز ایک، ایک سے برابر
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان جاری تین میچوں کی ون ڈے سیریز اس وقت ایک، ایک سے برابر ہے۔ 30 مئی کو کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں پاکستان نے پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی جب کہ 2 جون کو ہونے والے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے 41 رنز سے فتح حاصل کرکے سیریز برابر کردی۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا تیسرا اور فیصلہ کن میچ آج قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جارہا ہے، جہاں دونوں ٹیمیں ٹرافی اپنے نام کرنے کے لیے میدان میں اتری ہیں۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے اسکواڈز
پاکستانی ٹیم کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کر رہے ہیں جب کہ سلمان علی آغا نائب کپتان ہیں۔ اسکواڈ میں بابر اعظم، حارث رؤف، نسیم شاہ، شاداب خان، ابرار احمد، صاحبزادہ فرحان، روحیل نذیر، سفیان مقیم، عبدال صمد، احمد دانیال، عرفات منہاس، ماز صداقت، محمد غازی غوری اور شمیل حسین شامل ہیں۔
آسٹریلوی ون ڈے ٹیم کی قیادت جوش انگلس کر رہے ہیں جب کہ اسکواڈ میں الیکس کیری، کیمرون گرین، مارنس لبوشین، ایڈم زمپا، میتھیو رینشا، نیتھن ایلس، ریلی میریڈتھ، میٹ شارٹ، بلی اسٹین لیک، تنویر سنگھا، کوپر کونولی، اولیور پیک، لیام اسکاٹ اور میتھیو کوہنیمن شامل ہیں۔
آسٹریلیا کا دورہ بنگلادیش بھی شیڈول
پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے بعد آسٹریلیا بنگلادیش کا دورہ کرے گا، جہاں 9، 11 اور 14 جون کو ڈھاکا میں تین ون ڈے میچز کھیلے جائیں گے۔ اس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان 17، 19 اور 21 جون کو چٹوگرام میں تین ٹی20 انٹرنیشنل میچز بھی شیڈول ہیں۔