حزب اللہ نے واشنگٹن جنگ بندی منصوبہ مسترد کر دیا، لبنان سے اسرائیلی انخلا تک مزاحمت کا اعلان

نئی تجویز میں اسرائیلی افواج کی موجودگی اور انخلا کے مبہم نکات کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
شائع 04 جون 2026 07:28pm

حزب اللہ نے امریکا کی ثالثی میں پیش کیے گئے جنگ بندی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیلی افواج جنوبی لبنان سے مکمل طور پر واپس نہیں جاتیں، مزاحمت جاری رہے گی۔ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے انخلا سے انکار کے بعد جنوبی لبنان میں حملے بدستور جاری ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق حزب اللہ نے واشنگٹن میں طے پانے والے جنگ بندی فریم ورک کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جب کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے لبنان کی حکومت اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل غیر شفاف ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کا مطلب صرف فائر بندی نہیں بل کہ مکمل طور پر اسرائیلی افواج کا انخلا ہونا چاہیے۔

انہوں نے اس تجویز کو بھی مسترد کیا جس میں مبینہ طور پر حزب اللہ کی غیر مسلح جنگ بندی سے مشروط کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اسرائیلی موجودگی جنوبی لبنان سے ختم نہیں ہوتی۔

بیروت سے صحافی علی ہاشم کے مطابق نعیم قاسم نے بتایا کہ موجودہ معاہدہ اس حوالے سے واضح نہیں کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے کیسے اور کب انخلا کرے گی اور یہ بھی کہ جن علاقوں کو پائلٹ زونز کہا جا رہا ہے وہاں کنٹرول کی منتقلی کس طریقے سے ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی فوج کچھ اسٹریٹجک مقامات بشمول بیوفورٹ کیسل اور دیگر جنوبی علاقوں میں موجود رہے گی، جس سے تنازع مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ جب تک جنوبی لبنان میں اسرائیلی قبضہ برقرار رہے گا، وہ مزاحمت جاری رکھے گی۔ گروپ کے مطابق موجودہ جنگ بندی منصوبہ اس مسئلے کا مستقل حل فراہم نہیں کرتا۔

امریکا کی جانب سے پیش کردہ فریم ورک کے مطابق جنگ بندی اس شرط پر منحصر ہے کہ حزب اللہ مکمل طور پر فائرنگ بند کرے اور سرحدی علاقوں سے اپنی فورسز واپس لے جائے، تاہم اسرائیلی انخلا کا واضح اور حتمی شیڈول اس میں شامل نہیں۔

لبنانی صدر جوزف عون نے اس تجویز کو ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تمام فریق متفق ہوں تو جنگ بندی جلد نافذ ہو سکتی ہے، لیکن حزب اللہ کے سخت ردعمل کے بعد صورتِ حال غیر یقینی ہو گئی ہے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں پر محیط ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حزب اللہ، جو ایران کی حمایت یافتہ تنظیم ہے، اس تنازع میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، جب کہ اسرائیل اسے اپنی سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ خطے میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک اسرائیل لبنان سے اپنی افواج واپس نہیں بلاتا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی جنگ بندی کے لیے ان کی بنیادی شرط تمام محاذوں پر مکمل فائر بندی ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر لبنان پر حملے بند کرنے چاہئیں، مقبوضہ علاقوں سے انخلا کرنا چاہیے اور لبنان کی علاقائی خودمختاری کو تسلیم کرنا چاہیے۔

Read Comments