تیسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کے لیے 158 رنز کا ہدف
آسٹریلیا نے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں پاکستان کو جیت کے لیے 158 رنز کا ہدف دے دیا ہے جب کہ دونوں ٹیموں کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز ایک-ایک سے برابر ہے۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے تین میچوں کی سیریز کے تیسرے اور آخری ون ڈے میں آسٹریلوی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 42 اوورز میں 157 رنز بناکر ڈھیر ہوگئی۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ
آسٹریلوی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو درست ثابت نہ ہوا، پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو بڑا اسکور کرنے سے روک دیا۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن پاکستانی بولرز کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔ آسٹریلوی کپتان جوش انگلس نے تھوڑی بہت مزاحمت کرتے ہوئے 65 رنز کی اننگز کھیلی تاہم وہ بھی ٹیم کو بڑے اسکور تک پہنچانے میں ناکام رہے۔
اس کے علاوہ آسٹریلیا کے دیگر بلے بازوں میں مارنس لبوشین، ایلکس کیری نے 19، 19 اور ایڈم زیمپا نے 10 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کے 7 بلے باز ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوسکے، کیمرون گرین اور اولیور پیک 7،7 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جب کہ میتھیو شارٹ بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔
پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار احمد اور شاداب خان نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ دیگر بولرز نے بھی نپی تلی بولنگ کے ذریعے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو دباؤ میں رکھا۔
اس طرح آسٹریلین ٹیم مقررہ 50 اوورز کھیلنے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم 42 اوورز میں 157 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی اور یوں پاکستان کو جیت کے لیے 158 رنز کا ہدف دے دیا۔ یاد رہے کہ یہ آسٹریلیا کا پاکستانی سرزمین پر کم ترین اسکور ہے۔
میچ کا ٹاس
جمعرات کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کے کپتان جوش انگلس نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لاہور میں بارش اور آندھی کے باعث ٹاس 15 منٹ کی تاخیر سے 4 بج کر 15 منٹ پر ہوا جب کہ میچ کا آغاز 4 بج کر 45 منٹ پر ہوا۔
پاکستان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جب کہ آسٹریلوی ٹیم میں ایک تبدیلی ہوئی ہے، تنویر سنگھا کی جگہ کوپر کونولی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
ٹاس کے موقع پر پاکستان ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف مزید اچھی بولنگ کرنا پڑے گی، بارش سے زیادہ اثر نہیں پڑا ہوگا، اسپینرز سے اچھی مدد ملے گی۔
پاکستانی اسکواڈ
پاکستانی ٹیم میں صاحبزادہ فرحان، معاذ صداقت، بابر اعظم، محمد غازی غوری، سلمان علی آغا، عبدالصمد، شاداب خان، عرفات منہاس، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور ابرار احمد شامل ہیں۔
آسٹریلوی اسکواڈ
آسٹریلوی الیون کی قیادت جوش انگلس کررہے ہیں اور ٹیم میں میٹ شارٹ، الیکس کیری، مارنس لبوشین، کیمرون گرین، میٹ رینشا، اولی پیک، نیتھن ایلس، کوپر کونیلی، ایڈم زیمپا اور میٹ کونے مین موجود ہیں۔
ہیڈ ٹو ہیڈ مقابلے
اگر پاکستان اور آسٹریلیا کے باہمی ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو ون ڈے کرکٹ میں آسٹریلیا کا پلہ ہمیشہ بھاری رہا ہے۔ دونوں ٹیمیں اب تک 113 مرتبہ ایک روزہ میچوں میں آمنے سامنے آچکی ہیں جس میں سے 72 میچوں میں آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی ہے جب کہ پاکستان صرف 37 میچز جیت سکا ہے۔ اس کے علاوہ تین میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے اور ایک میچ ٹائی رہا۔
حالیہ سیریز میں پاکستان کے پاس آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تیسری مرتبہ ون ڈے سیریز جیتنے کا سنہری موقع ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے 2022 میں ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا کو2 ایک سے شکست دی تھی اور پھر نومبر 2024 میں آسٹریلیا کی دھرتی پر تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیریز دو ایک سے اپنے نام کی تھی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم اپنی جیت کا تسلسل برقرار رکھتی ہے یا جوش انگلس کی نوجوان آسٹریلوی ٹیم سیریز جیت کر گرین شرٹس کی اس بالادستی کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہے، پہلے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی جب کہ دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 42 رنز سے شکست دی تھی۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ون ڈے سیریز میں پانچ مرتبہ ایسا موقع آیا ہے جب سیریز کا آخری میچ فیصلہ کن بن گیا ہو اور ایسی صورت حال میں 4 مرتبہ پاکستان جب کہ ایک بار آسٹریلیا فاتح رہا ہے۔