ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کرنے کا اعلان
ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول ٹیکس کے بجائے سروس فیس وصول کی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فیس سیکیورٹی اور دیگر بحری خدمات کے بدلے میں لی جائے گی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے روایتی ٹرانزٹ ٹولز یا راستہ فیس وصول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اس کے بجائے سروس چارجز عائد کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران “راستہ فیس، ٹرانزٹ ڈیوٹی یا ٹرانزٹ رائٹس” وصول نہیں کرے گا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق ایران اور عمان مشترکہ طور پر ان بحری خدمات کے بدلے معاوضہ حاصل کریں گے جن میں نیویگیشن معاونت، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، سیکیورٹی، حفاظتی خدمات اور آلودگی کی صورت میں ماحولیاتی صفائی شامل ہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے، اور بین الاقوامی قانون کے تحت ان دونوں ممالک کو اس پر خودمختاری حاصل ہے۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ تیار کیے جانے والے انتظامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوں گے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ اقدامات بعض ممالک کے لیے مکمل طور پر قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔
اسرائیلی انخلاء کے بغیر خطے میں امن نہیں ہوگا، پاسداران انقلاب
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل لبنان کی سرزمین سے مکمل طور پر انخلا نہیں کرتا، خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
امریکی ثالثی میں ہونے والی بات چیت میں لبنانی اور اسرائیلی حکومتوں کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے منصوبے پر پاسداران انقلاب نے واضح کیا کہ لبنانی سرزمین سے اسرائیل کے انخلاء کے بغیر “خطے میں امن نہیں” ہو گا۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے ذریعے شیئر کیے گئے ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ علاقائی جنگ میں جنگ بندی کو قبول کرنے کے لیے ہماری ابتدائی شرط لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی ہے۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ دشمن کو فوری طور پر لبنانی عوام پر اپنے حملے بند کرنے چاہئیں، اور لبنان کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کر کے بین الاقوامی سرحدوں سے فوری پیچھے ہٹنا چاہیے، اور لبنان کی علاقائی سالمیت کو تسلیم کرنا چاہیے۔