رواں سال حکومت کی معاشی کارکردگی کیسی رہی؟ اقتصادی سروے جاری
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 26-2025 کا اقتصادی سروے باقاعدہ طور پر پیش کر دیا ہے، جس کے مطابق حکومت کی کارکردگی کئی اہم معاشی شعبوں میں بہتر رہی، تاہم بعض بنیادی شعبوں میں کمزوریاں بھی برقرار رہیں۔
جن شعبوں میں حکومتی کارکردگی بہتر رہی ان میں مجموعی معاشی نمو، صنعتی شعبے خصوصاً بڑی صنعتوں کی ترقی، سروسز سیکٹر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا، ترسیلاتِ زر، زرمبادلہ کے ذخائر اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق، جون 2025 میں ٹیکس وصولی 41.9 ارب ڈالر رہی اور جون 2026 میں ٹیکس وصولی 46.4 ارب ڈالر جانے کا مکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال میں ٹیکس ریونیو میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔
آئی ٹی برآمدات، گارمنٹس اور ہوم ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہوا۔
دوسری جانب کمزور کارکردگی والے شعبوں میں زرعی شعبہ، مجموعی برآمدات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی عوام کے لیے چیلنج بنا رہا، جبکہ ملکی قرضوں کا حجم اب بھی جی ڈی پی کے تقریباً 68.5 فیصد کے برابر ہے۔
وزیر خزانہ نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سروے دراصل گزشتہ ایک سال کی معاشی کہانی بیان کرتا ہے۔
انہوں نے ماضی کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال جولائی میں تجارتی صورتحال غیر یقینی تھی اور ٹیرف یعنی ٹیکسوں کے حوالے سے بھی ابہام پایا جاتا تھا، لیکن حکومت نے اس امتحان کا سامنا اچھی طرح سے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مارچ کے مہینے سے ہم نے علاقائی رابطے شروع کیے اور تمام تر بیرونی و اندرونی چیلنجز کے باوجود ملک نے معاشی ترقی کی بہتر شرح حاصل کی ہے، جو کہ گزشتہ چار سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔
معاشی نمو کے حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس بار جی ڈی پی کی مجموعی شرح نمو 3.7 فیصد رہی ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں معاشی ترقی کی یہ شرح 3.2 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
انہوں نے عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور کشیدگی کی وجہ سے ہماری معیشت بھی متاثر ہوئی ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان کی معیشت کا کل حجم 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
مختلف شعبوں کی کارکردگی کی تفصیلات دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کی شرح 2.8 فیصد رہی ہے۔ صنعتی میدان میں بڑی صنعتوں یعنی ایل ایس ایم سیکٹر نے 6.1 فیصد کی رفتار سے ترقی کی ہے، جو کہ گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔
انہوں نے خوش آئند بات بتاتے ہوئے کہا کہ 22 میں سے 16 صنعتی سیکٹرز نے شاندار ترقی دکھائی ہے، اس دوران سیمنٹ کی طلب میں دس فیصد جبکہ فرٹیلائزر، موبائل فون اور پیٹرولیم کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خدمات یعنی سروسز کے شعبے نے 4.9 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے اور یہ کارکردگی بھی پچھلے چار سالوں میں سب سے نمایاں ہے۔
مالیاتی خسارے اور تجارتی توازن پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مالی خسارہ جی ڈی پی کا محض 0.7 فیصد رہا ہے، جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 10.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے ایک اور بڑی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جولائی سے مارچ کے دوران ملکی کرنٹ اکاؤنٹ بہتر رہا اور یہ 72 ملین ڈالر سرپلس یعنی منافع میں رہا ہے، جبکہ گزشتہ ماہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے 4.2 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئی ہیں۔
وزیر خزانہ نے برآمدات کے اتار چڑھاؤ پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ برآمدات میں کمی کی دو اہم وجوہات رہی ہیں، جن میں چاول کی برآمدات کا 1.1 ارب ڈالر تک کم ہونا اور فوڈ سیکٹر میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی کمی آنا شامل ہے۔ تاہم، دوسری جانب جولائی سے مئی کے دوران گارمنٹس کی برآمدات میں پانچ فیصد اور ہوم ٹیکسٹائل میں تین فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انہوں نے ملکی ساکھ کے حوالے سے ایک منفرد بات بتاتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کے تیار کردہ فٹ بال شامل ہیں۔
آئی ٹی سیکٹر کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان کی آئی ٹی برآمدات ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کا کل حجم 17.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں مہینے یعنی تیس جون تک یہ ذخائر 18 ارب ڈالر کی سطح کو چھو لیں گے۔
اسٹاک مارکیٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کے ایس ای انڈیکس میں اتار چڑھاؤ آنا ایک قدرتی عمل ہے، تاہم اس وقت ایکوٹی مارکیٹ 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور مارکیٹ پر اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس دوران ایک لاکھ 75 ہزار نئے سرمایہ کاروں نے مارکیٹ میں شمولیت اختیار کی ہے۔
قرضوں کی صورتحال اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ملکی مجموعی قرضوں میں سے 40 سے 45 فیصد تک کا قرضہ رعایتی شرائط پر حاصل کیا گیا ہے، جبکہ ملک کی مجموعی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں قرضوں کا تناسب ساڑھے 68 فیصد رہا ہے۔
انہوں نے ایک بڑی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے چار سال کے طویل عرصے کے بعد دوبارہ یورو بانڈز کا اجرا کیا ہے، جبکہ چینی مارکیٹ میں بھی پانڈا بانڈز کامیابی سے جاری کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق ان بانڈز کا دوبارہ مارکیٹ میں آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد بحال ہو چکا ہے، جس کے اچھے اثرات عوام تک پہنچ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں فی کس سالانہ آمدنی بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔
ٹیکس وصولیوں اور صنعتی مانیٹرنگ کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ یعنی پیداوار کی جدید نگرانی کے نظام پر پورا سال سنجیدگی سے کام کیا گیا ہے۔ اس نئے ٹریکنگ سسٹم کی بدولت صرف سیمنٹ اور شوگر یعنی چینی کے شعبوں سے حکومت کو 60 ارب روپے کے اضافی ٹیکس محصولات حاصل ہوئے ہیں۔ اس نظام کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اب یہ ڈیجیٹل سسٹم تمباکو، بیوریج، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم صنعتی شعبوں میں بھی متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔
نجی شعبے اور تعلیم کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ نجی شعبے کے لیے بینکوں سے ملنے والے قرضوں کے حجم میں 22 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد نجی شعبے کے قرضوں کی کل مالیت 934 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی زرعی ترقی کے لیے دیے جانے والے زرعی قرضوں میں بھی پندرہ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کسانوں کے لیے مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
سماجی شعبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ملک میں شرح خواندگی یعنی پڑھے لکھے لوگوں کا تناسب 60 فیصد سے بڑھ کر اب 63 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے نے اعتراف کیا کہ ملکی معیشت میں درآمدی افراطِ زر یعنی باہر سے آنے والی مہنگائی کا عنصر شامل ہوا ہے، جس کے اثرات نمایاں ہیں اور اسی وجہ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
تاہم، انہوں نے ایک مثبت پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ یعنی شرحِ سود 22 فیصد کی بلند سطح سے نیچے آیا ہے، جو کاروباری سرگرمیوں کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔
ٹیکسوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسیشن کے معاملے اور نئی حکمتِ عملی پر تفصیلی بات چیت کل کی جائے گی، جبکہ اس بار ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی 9306 ارب روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی ملکی معیشت کے ڈھانچے اور برآمدات کی صورتحال پر گفتگو کی۔
انہوں نے سمندر پار پاکستانیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس وقت 90 لاکھ پاکستانی بیرونِ ملک مقیم ہیں اور وہ سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر کا زرمبادلہ ملک کو بھیجتے ہیں۔
احسن اقبال نے ملکی برآمدی شعبے کی کمزوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ ہماری ایک بڑی ناکامی ہے کہ ملک کے اندر موجود 25 کروڑ پاکستانی بھی مل کر صرف 40 ارب ڈالر کی برآمدات کر پاتے ہیں، جو کہ باہر موجود 90 لاکھ پاکستانیوں کے بھیجے گئے سرمائے کے برابر ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے ملکی معاشی سمت کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج تک برآمدات پر مشتمل ایک مضبوط معیشت کھڑی کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو کہ پائیدار ترقی کے لیے لازمی تھی۔
انہوں نے ملک میں جاری سیاسی کھینچا تانی پر بات کرتے ہوئے اصرار کیا کہ معاشی ترقی کی منزل پانے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام کا ہونا سب سے پہلی اور ضروری شرط ہے۔
انہوں نے منفی سوچ اور مایوسی کی فضا کو ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم ہر وقت صرف آدھے خالی گلاس پر بات کرتے ہیں، یعنی صرف مروجہ خامیوں کو دیکھتے ہیں، حالانکہ ہمیں مثبت پہلوؤں کو سامنے لا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔