صدر ٹرمپ کا ایران پر آج رات شدید حملے کا اعلان، تیل تنصیبات پر قبضے کی بھی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’سوشل ٹروتھ‘ پر بیان میں کہا ہے کہ امریکا آج رات ایران پر بہت سخت حملے کرے گا۔ انہوں نے مستقبل میں خلیج فارس کی اہم تیل تنصیبات پر کنٹرول لینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران پر بھرپور عسکری کارروائی کرے گا، جس کا آغاز آج رات متوقع ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور فضائی دفاعی نظام سمیت زیادہ تر دفاعی صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں اور اب امریکا بہت سخت کارروائی کرے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق مستقبل قریب میں امریکا ایران کے اہم تیل کے مرکز ’خارگ آئی لینڈ‘ سمیت دیگر تیل اور گیس تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرے گا۔ انہوں نے اسے وینزویلا کی صورتِ حال سے تشبیہ دی اور کہا کہ وہاں بھی اسی طرز کا ماڈل کامیابی سے چل رہا ہے۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے تیل اور گیس مارکیٹس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے، جو امریکا کے اسٹریٹجک مفاد میں ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی بلند سطح پر موجود ہے اور جنگ بندی کے بعد دوبارہ حملوں سے عالمی منڈیوں میں بھی سخت تشویش پائی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی سے ٹیلی فون پر بھی گفتگو کی جس میں انھوں نے کہا کہ ایران معاہدے کے لیے ہم سے بات چیت کر رہا ہے، ایران بہت مغرور ہے، ایران کے تمام ریڈارز، فضائی دفاعی نظام کو تباہ کردیا ہے، یقین سے کہتا ہوں ایران کے پاس 20 فی صد ہتھیار باقی رہ گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج رات ایران پر انتہائی طاقت ور حملہ کرنے جا رہے ہیں، ہم ابھی ایران سے بات کر رہے ہیں، ایران کے بارے مایوس نہیں ہوں، ہوسکتا ہے ایران کے ساتھ عظیم معاہدہ طے پائے، ایران کے ساتھ اسی وقت معاہدہ طے کرنا چاہتا ہوں، ایران کے خارگ جزیرے پرقبضے کو بہتر سمجھتا ہوں۔
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے اندر بدھ اور جمعرات کے روز بھی مسلسل فضائی حملے کیے۔ جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون داغے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ہیں جن میں ایران کے فوجی نظام، مواصلاتی نیٹ ورک اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے رات بھر میں دو سے تین لہروں میں ایران کے تقریباً ایک درجن شہروں اور صوبوں کو نشانہ بنایا۔پہلے حملے میں کیش، سیریک، میناب اور بندر عباس شامل تھے، جب کہ دوسرے مرحلے میں اصفہان اور تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں دھماکے سنے گئے۔
امریکی حملوں کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر حملے کیے ہیں، جو انتہائی خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ امریکی حکومت کی حالیہ کارروائیاں نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں بل کہ ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کو بھی پامال کرتی ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان حملوں نے 8 اپریل کی جنگ بندی کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا ہے، جب کہ خطے میں مزید کشیدگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بعض علاقائی ممالک کی سرزمین اور سہولیات امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کی جا رہی ہیں، جس سے وہ ممالک بھی بالواسطہ طور پر اس کشیدگی کا حصہ بن رہے ہیں۔ تہران نے خطے کے ممالک کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین اور وسائل کو کسی بھی بیرونی فوجی استعمال سے روکنے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کریں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس نے بدھ کے روز جنوبی ایران میں فوجی، نگرانی اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حق دفاع کے تحت حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی ہے۔
امریکا کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں کچھ ممالک پر حملے کیے جن میں بحرین، کویت اور اردن میں پورے خطے میں پھیلے امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔
جمعرات کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نے خلیجِ عمان میں ایک تجارتی آئل ٹینکر کو ناکارہ بنایا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ ایران سے تیل منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور امریکی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز اس ہفتے ناکارہ بنایا جانے والا تیسرا ٹینکر ہے، جب کہ اس سے قبل دو دیگر جہازوں پر بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔