ڈیسک جاب کرنے والے ہوشیار، سر کا وزن ریڑھ کی ہڈی کو کیسے برباد کر رہا ہے؟

اسے معمولی نہ سمجھیں، یہ بڑی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔
شائع 18 جون 2026 11:50am

ٹیکنالوجی کے جدید دور میں کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور موبائل فون کا مسلسل اور غلط طریقے سے استعمال نوجوان نسل کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گیا ہے۔

ہڈیوں اور جوڑوں کے ماہرین کے مطابق، اب بیس سے تیس سال کے نوجوان مہروں اور گردن کی ان بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں جو ماضی میں صرف پچاس سال سے زائد عمر کے بزرگوں میں دیکھی جاتی تھیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دن میں آٹھ سے دس گھنٹے اسکرین کے سامنے جھک کر بیٹھنا ریڑھ کی ہڈی کی تباہی کا سب سے بڑا سبب بن رہا ہے۔

طبی تحقیق کے مطابق، جب انسان بالکل سیدھا بیٹھتا ہے تو اس کے سر کا عام وزن پانچ سے چھ کلو گرام ہوتا ہے۔ تاہم، جب سر کو موبائل یا کمپیوٹر دیکھنے کے لیے آگے کی طرف جھکایا جائے، تو گردن کے مہروں پر پڑنے والا یہ بوجھ بڑھ کر پندرہ سے بائیس کلو گرام تک محسوس ہوتا ہے۔
پٹھوں اور مہروں پر روزانہ گھنٹوں یہ اضافی بوجھ پڑنے سے مہرے آہستہ آہستہ اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے درمیان موجود کشن یعنی ڈسک گھسنا شروع ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، سر کے پچھلے حصے میں ہلکا درد، کندھوں کا جکڑنا اور گردن چٹخانے کی عادت اس بیماری کی ابتدائی نشانیاں ہیں جنہیں عام طور پر لوگ معمولی درد سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، جو بعد میں مستقل معذوری یا شدید تکلیف کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کی بڑی وجہ جدید طرزِ زندگی ہے، جس میں لوگ زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں اور جسمانی حرکت کم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکرین کا بڑھتا ہوا استعمال بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

طبی ماہرین نے اس مرض سے بچاؤ کے لیے چند انتہائی آسان اور مستند تدابیر تجویز کی ہیں۔

کام کے دوران کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی اسکرین ہمیشہ آنکھوں کے بالکل سامنے ہونی چاہیے تاکہ گردن کو نیچے نہ جھکانا پڑے۔ اس کے علاوہ، کرسی پر بیٹھتے وقت کمر کو سیدھا اور پاؤں کو زمین پر بالکل فلیٹ رکھنا ضروری ہے۔

ماہرین نے پنتالیس منٹ کام کے بعد پانچ منٹ کا وقفہ لینے کی سخت تاکید کی ہے، جس کے دوران ملازمین اپنی سیٹ سے اٹھ کر چند قدم چلیں یا کندھوں کو گھمائیں تاکہ خون کی گردش برقرار رہے اور پٹھوں کا کھچاؤ ختم ہو سکے۔

ڈاکٹروں کے مطابق باقاعدہ جسمانی حرکت اور گردن کے پٹھوں کو مضبوط رکھنے والی ہلکی ورزشیں بھی اس مسئلے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم اگر درد مسلسل رہے تو فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

یاد رکھیں،انسانی ریڑھ کی ہڈی مضبوط ضرور ہے، لیکن غلط عادات کے باعث اس پر وقت کے ساتھ اثر پڑتا ہے، اس لیے احتیاط اور درست اندازِ زندگی اپنانا بہت ضروری ہے۔

Read Comments