حزب اللہ کا متعدد اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ، لبنان میں 18 افراد ہلاک
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں متعدد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک و زخمی جبکہ 3 ٹینک تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی تازہ فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں حملوں کا مرکزی ہدف ضلع نبطیہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقے رہے۔
ترک خبر ایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے جاری دو مختلف بیانات میں کہا گیا کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کی ایک بکتر بند اور ایک فوجی پلاٹون کی نقل و حرکت پر نظر رکھی، جو علی الطاہر کی پہاڑیوں کے شمالی حصے کی جانب پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھی۔ تنظیم کے مطابق اسرائیلی دستے کو کِل زون میں داخل ہونے دیا گیا جہاں ان پر اچانک حملہ کردیا گیا۔
بیانات کے مطابق حزب اللہ کے جنگجوؤں نے 3 مرکاوا ٹینکوں کو گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ٹینک تباہ ہو گئے اور ان میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس کے بعد اسرائیلی فورسز پر شدید راکٹ اور توپ خانے کے حملے بھی کیے گئے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ گھات لگا کر کیے گئے اس حملے کے بعد بھی جھڑپیں جاری رہیں، تاہم تنظیم نے اسرائیلی فوج کے جانی نقصان کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کا یہ دعویٰ بٹالین کمانڈر سمیت 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا۔
یہ حملے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے نافذ ہونے کے بعد اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے سب سے منظم اور وسیع حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے نے بتایا تھا کہ جمعے کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اسرائیل نے بیان میں کہا تھا کہ رات بھر جاری رہنے والی کارروائیاں مختلف علاقوں میں موجود ان اہداف کے خلاف کی گئیں جنہیں اس نے حزب اللہ سے منسلک قرار دیا تھا۔
مقامی رہائشیوں اور میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری نے ضلع نبطیہ کے متعدد قصبوں کو رات بھر اور جمعے کی صبح تک نشانہ بنایا۔ لبنانی خبر ایجنسی کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران یہ بمباری کی شدید ترین کارروائیوں میں سے ایک تھی۔
یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایک روز قبل اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنے توسیع شدہ فوجی کنٹرول زون کا نقشہ جاری کیا تھا۔
اسرائیل نے عندیہ دیا تھا کہ اس علاقے سے باہر بھی حملوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، جس کے بعد بدھ کے روز امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔
اس معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی کے خاتمے اور تمام فریقین کی جانب سے لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بتایا تھا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوج کی موجودگی برقرار رکھنے کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ سخت مذاکرات کر رہا ہے۔
اسرائیل حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں جنوبی لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر (6.2 میل) تک فوجی تعیناتی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان سے اپنی افواج کے انخلا کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ اسرائیلی فوجی پوزیشنوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان حملوں میں بعض اوقات بارودی ڈرونز بھی استعمال کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں رواں ہفتے اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں۔