ٹھنڈی لسی پیتے ہی پیٹ کیوں پھول جاتا ہے اور 'گُڑ گُڑ' کیوں شروع ہوجاتی ہے؟

ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟
شائع 20 جون 2026 11:31am

گرمی کے موسم میں ہر کوئی دھوپ اور تپش سے بچنے کے لیے ٹھنڈی لسی پینا پسند کرتا ہے۔ لسی پینے سے جسم میں پانی کی کمی تو پوری ہوتی ہے، لیکن بہت سے لوگوں کے ساتھ یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ ٹھنڈی لسی پیتے ہی ان کا پیٹ پھول جاتا ہے، گیس بن جاتی ہے اور بھاری پن محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کے اندرونی درجہ حرارت اور اچانک ٹھنڈے مشروب کے درمیان فرق نظامِ ہضم پر اثر ڈالتا ہے۔

’پروبائیوٹکس اینڈ اینٹی مائیکرو بیل پروٹینز’ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ جسم کے اندر اچانک سرد درجہ حرارت کا پہنچنا معدہ خالی ہونے کے عمل کو سست کر سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ خوراک ہاضمے کے نظام سے زیادہ سست رفتاری سے گزرتی ہے۔ اس اچانک لگنے والے ٹھنڈے جھٹکے کی وجہ سے ہمارے پیٹ کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں اور کھانا ہضم ہونے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔

دودھ یا دہی سے بنی چیزیں کھانے کے آدھے گھنٹے سے لے کر دو گھنٹے کے اندر اندر اگر پیٹ میں گیس بن جائے یا پیٹ پھول جائے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ آپ کا جسم دودھ اور دہی کو ہضم نہیں کر پا رہا۔

ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ اگر آپ لسی کے فائدے اٹھانا چاہتے ہیں اور پیٹ کی خرابی سے بھی بچنا چاہتے ہیں تو لسی کو بہت زیادہ ٹھنڈا یا برف والا نہ بنائیں۔ لسی عام درجہ حرارت پر ہونی چاہیے تاکہ پیٹ کو ٹھنڈا جھٹکا نہ لگے۔

لسی ہمیشہ کم مقدار میں پییں، اس میں چینی کم رکھیں اور ہاضمے کو اچھا کرنے کے لیے اس میں پودینہ یا بھنا ہوا زیرہ ملا لیں۔

جن لوگوں کا ہاضمہ بہت زیادہ حساس ہے، وہ لسی کی جگہ پتلی چھاچھ کا استعمال کر سکتے ہیں تاکہ گرمی بھی دور ہو جائے اور پیٹ بھی خراب نہ ہو۔

Read Comments