یورپ میں شدید گرمی کی وجہ ’اومیگا بلاک‘ کیا ہے؟

کیا اومیگا بلاک یورپ کی شدید گرمی کی نئی وجہ بن گیا ہے، یا بدلتا ہوا موسم اس خطرناک صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے؟
شائع 24 جون 2026 10:32am

مغربی یورپ اس وقت شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہے، جس کے باعث صرف فرانس میں ہی 40 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی گرمی کی ایک اہم وجہ ایک موسمیاتی نظام ہے جسے ”اومیگا بلاک“ کہا جاتا ہے۔

اومیگا بلاک کا نام یونانی حرف ”Ω“ (اومیگا) کی شکل سے لیا گیا ہے۔ اس موسمی نظام میں گرم اور مستحکم بلند فضائی دباؤ کا ایک بڑا حصہ دو طرف موجود کم دباؤ والے نسبتاً ٹھنڈے نظاموں کے درمیان پھنس جاتا ہے۔ عام حالات میں جیٹ اسٹریم نامی تیز ہوائی دھارا موسم کے نظاموں کو مغرب سے مشرق کی جانب منتقل کرتا رہتا ہے، لیکن اومیگا بلاک کے دوران یہ بہاؤ متاثر ہو جاتا ہے اور فضائی نظام اپنی جگہ پر رک سے جاتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ماہرین کا کہناہے کہ جب ایسا ہوتا ہے تو گرم ہوا ایک ہی علاقے پر طویل عرصے تک موجود رہتی ہے۔ اومیگا بلاک عام طور پر تین سے دس دن تک برقرار رہتا ہے، تاہم بعض اوقات یہ کئی ہفتوں تک بھی قائم رہ سکتا ہے۔

اس موسمی نظام کے دوران بلند دباؤ والے مرکزی حصے میں موسم انتہائی گرم اور خشک ہو جاتا ہے۔ بلند دباؤ بادلوں کی تشکیل کو بھی روکتا ہے، جس کے نتیجے میں آسمان صاف رہتا ہے اور سورج کی تپش میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی صورتحال اس وقت فرانس اور اسپین میں دیکھی جا رہی ہے جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

دوسری جانب اومیگا بلاک کے دونوں اطراف موجود کم دباؤ والے علاقوں میں نسبتاً ٹھنڈا اور بارش والا موسم رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

برطانیہ اس وقت گرم اور ٹھنڈی فضائی لہروں کے درمیان واقع ہے، جس کی وجہ سے ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں شدید گرمی جبکہ شمالی اور مغربی علاقوں میں نسبتاً ٹھنڈا اور مرطوب موسم دیکھا جا رہا ہے۔

جہاں تک موسمیاتی تبدیلی یا ماحولیاتی تبدیلی کا تعلق ہے، سائنس دانوں میں ابھی اس بات پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں کہ آیا اومیگا بلاک جیسے موسمی نظام مستقبل میں زیادہ مرتبہ رونما ہوں گے یا نہیں۔ تاہم اس بات پر عالمی سائنسی اتفاق موجود ہے کہ موسمیاتی تبدیلی گرمی کی لہروں کی شدت اور تعداد میں اضافہ کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق کوئلہ، تیل اور گیس جیسے ایندھن کے استعمال سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں نے صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں زمین کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 1.3 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ کر دیا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے بنیادی درجہ حرارت کے باعث گرمی کی لہریں پہلے کے مقابلے میں زیادہ شدید ثابت ہو رہی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امپیریل کالج لندن سے وابستہ شدید موسمی حالات اور آب و ہوا کی محقق کلیئر بارنس کا کہنا ہے کہ فوسل ایندھن کے استعمال اور دیگر ماحولیاتی اثرات کے باعث یورپ میں آنے والی گرمی کی لہریں اب 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ شدید ہو چکی ہیں۔

جب اومیگا بلاک جیسے موسمی نظام بنتے ہیں تو پہلے سے گرم ہوتی ہوئی زمین ان کے اثرات کو مزید شدید بنا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں گرمی کی شدت خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ اومیگا بلاک ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے، لیکن بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت اس کے دوران محسوس کی جانے والی گرمی کو مزید شدید بنا رہا ہے، جس کے اثرات انسانی صحت، زراعت اور روزمرہ زندگی پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

Read Comments