ایران کے لیے لبنان اتنا اہم کیوں ہے؟

حزب اللہ، نظریاتی دوستی اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کی اندرونی کہانی
شائع 24 جون 2026 01:32pm

ایران نے امریکا کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات میں سب سے پہلی شرط یہی رکھی ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے روکے جائیں گے، اس کے بعد ہی آبنائے ہرمز کھولی جائے گی۔ جس کے بعد امریکا کے دباؤ پر اسرائیل نے نہ چاہتے ہوئے بھی لبنان پر حملے روک دیے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتے ہے کہ لبنان جنگ میں کیسے شامل ہوا اور ایران جو کہ خود پے در پے امریکی حملوں کی زد میں تھا اس نے لبنان پر حملے روکنے کی شرط کیوں رکھی؟

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ میں لبنان اس وقت شامل ہوا جب دو مارچ کو شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر میزائل داغے۔

حزب اللہ کا کہنا تھا کہ یہ حملے 28 فروری کو ہونے والے اس امریکی اور اسرائیلی حملے کا جواب تھے جس میں ایران کے سپریم لیڈر اور دنیا بھر میں شیعہ کمیونٹی کے رہبر علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے تھے۔

لیکن ایران کے لیے لبنان کی اہمیت صرف اس ایک بدلے یا کارروائی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اس گہرے رشتے سے ہے جو حزب اللہ اور تہران کے درمیان قائم ہے۔

حزب اللہ نامی یہ تنظیم سن 1982 میں اس وقت بنی تھی جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تھا۔ اس تنظیم کو بنانے میں ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے پورا ساتھ دیا تھا۔

حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی اور جب سنہ 2000 میں اسرائیلی فوجیں جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹ گئیں تو حزب اللہ نے اپنی فتح کا اعلان کیا۔

آج کے دور میں یہ تنظیم لبنان کی سب سے بڑی طاقت بن چکی ہے جو ایک سیاسی جماعت کے طور پر بھی کام کرتی ہے اور اس کے پاس اپنی ایک مضبوط فوج بھی ہے۔

لبنانی آرمی ملٹری اکیڈمی کے پروفیسر نعیم سالم نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں اس تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”حزب اللہ عرب دنیا اور اس پورے خطے میں ایران کی سب سے قریبی نظریاتی دوست اور ساتھی ہے۔“

پچھلی کئی دہائیوں کے دوران دونوں فریقین نے اخلاقی اور سیاسی طور پر ایک دوسرے کی بھرپور مدد کی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں لبنان میں بھی جنگ بندی کرنے پر ہر صورت زور دے رہے ہیں، کیونکہ اسرائیل اپنے شمالی پڑوسی ملک لبنان میں مسلسل قانون کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

مثال کے طور پر جب آٹھ اپریل کو امریکا اور ایران نے جنگ بندی کا اعلان کیا، تو اس کے فوراً بعد اسرائیلی افواج نے محض دس منٹ کے اندر اندر لبنان پر سو سے زیادہ حملے کر دیے، جس کے نتیجے میں 350 سے زائد لوگ مارے گئے اور 900 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دو مارچ سے اب تک اسرائیل لبنان میں چار ہزار سے زیادہ انسانی جانیں لے چکا ہے، جبکہ بارہ لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اسرائیل نے جنوبی لبنان کے اتنے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جتنا اس نے پچھلے تیس سالوں میں بھی نہیں کیا تھا۔

یہی وجہ ہے ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کی شرط رکھی ہے، تاکہ خطے میں اپنے سب سے مضبوط اتحادی کو مکمل تباہی سے محفوظ رکھا جاسکے۔

Read Comments