ایران جنگ میں نقصان: زخمی امریکی فوجیوں نے حکومتی جھوٹ کا پردہ فاش کردیا

زخمی ہونے والے فوجیوں نے خود سامنے آ کر میڈیا کو بتایا ہے کہ ان کے زخم اتنے گہرے اور خطرناک تھے کہ وہ اب کام کرنے کے لائق بھی نہیں رہے، مگر فوج سرکاری کاغذات میں جھوٹ بول رہی ہے۔
شائع 25 جون 2026 11:16am

امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں اور ان کے خاندانوں نے اپنی ہی فوج پر ایک بہت بڑا اور سنگین الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اور حکومت جنگ میں سیلرز اور فوجیوں کو لگنے والے گہرے زخموں کو جان بوجھ کر معمولی اور چھوٹا دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس تنازع کی شروعات اس وقت ہوئی جب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے مارچ کے مہینے میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ لڑائی میں زخمی ہونے والے چار سو امریکی فوجیوں میں سے تقریباً نوے فیصد کو صرف معمولی چوٹیں آئی تھیں اور وہ سب واپس اپنے کام پر لوٹ چکے ہیں۔

لیکن اب زخمی ہونے والے فوجیوں نے خود سامنے آ کر میڈیا کو بتایا ہے کہ ان کے زخم اتنے گہرے اور خطرناک تھے کہ وہ اب کام کرنے کے لائق بھی نہیں رہے، مگر فوج سرکاری کاغذات میں جھوٹ بول رہی ہے۔

اس دھوکے کا شکار ہونے والے ایک بڑے فوجی افسر چیف وارنٹ آفیسر روڈنی بیرمین ہیں، جو یکم مارچ کو جنگ کے شروع میں کویت کے اندر ایک ایرانی ڈرون حملے کی زد میں آ گئے تھے۔ اس حملے میں ان کا پورا جسم بم کے ٹکڑوں یعنی چھروں سے چھلنی ہو گیا تھا، ان کے دماغ پر گہری چوٹ آئی، ان کی آنکھوں کی روشنی اور کانوں کے سننے کی طاقت کم ہو گئی اور ان کے پھیپھڑے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔

لیکن ان سب زخموں کے باوجود امریکی فوج نے سرکاری کاغذات میں ان کی حالت کو ”معمولی زخمی“ لکھا ہوا ہے۔

اس پر ان کی بیوی ایمی بیرمین نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کے دوران شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج کا یہ فیصلہ ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔

اسی طرح ایک اور زخمی سارجنٹ کوری ہکس کے جسم پر بھی گہرے زخم آئے تھے اور کویت کے اسپتال میں ان کے کئی ہنگامی آپریشن ہوئے، لیکن ان کی بیوی کو بھی فوج کی طرف سے یہی کہا گیا کہ ان کے شوہر کو بس جبڑے پر معمولی چوٹ آئی ہے اور وہ کام پر واپس جا رہے ہیں۔

سارجنٹ کوری ہکس کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ فوج اور پینٹاگون اس پورے واقعے کو دبا رہے ہیں۔

دوسری طرف امریکی فوج نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ معاوضے اور علاج کے لیے جو سرکاری الفاظ جیسے ”معمولی زخمی“ استعمال کیے جاتے ہیں، ان کی ایک خاص قانونی تعریف ہوتی ہے جسے یہ خاندان غلط سمجھ رہے ہیں۔

ترجمان نے اصرار کیا کہ ہمارے لیے اپنے فوجیوں کی دیکھ بھال سب سے بڑھ کر ہے اور یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ فوج زخموں کو چھپا رہی ہے۔

انہوں نے قانون کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فوج صرف اس شخص کو ”شدید زخمی“ لکھتی ہے جس کی جان کو بہتر گھنٹوں کے اندر اندر خطرہ ہو۔

لیکن اب حقیقت یہ ہے کہ سارجنٹ کوری ہکس حملے کے چار مہینے گزرنے کے بعد بھی اسپتال میں داخل ہیں اور ان کے دماغ کی چوٹ اتنی سخت ہے کہ انہیں ٹھیک ہونے میں اب بھی کئی مہینے لگیں گے۔

روڈنی بیرمین کی بیوی ایمی بیرمین نے بتایا کہ ان کے شوہر پچھلے پچیس سالوں میں پانچویں بار ڈیوٹی پر ملک سے باہر گئے تھے اور یکم مارچ کو جب کویت کی بندرگاہ پر ایرانی ڈرون گرا تو وہاں موجود چھ امریکی فوجی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے اگلے ہی دن فوج کے ہیڈکوارٹر سے ایمی کو فون آیا کہ ان کے شوہر معمولی زخمی ہیں اور وہ ٹھیک ہو کر کام پر واپس چلے گئے ہیں، جس پر انہوں نے سکھ کا سانس لیا۔

لیکن اگلے دن جب ان کے شوہر نے اسپتال سے خود فون کیا تو ان کی حالت خراب تھی اور انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ میں اب کبھی کام پر واپس نہیں جا سکوں گا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس چوکی پر سیکیورٹی کے انتظامات بہت ناقص تھے اور وہاں نہ تو کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ ہی کوئی ایمبولینس موجود تھی، جس کی وجہ سے فوجیوں نے خود اپنے زخموں پر کپڑے باندھے اور عام شہریوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر اسپتال پہنچے۔

ایمی بیرمین کا کہنا ہے کہ اب ہماری فوج سے صرف یہ امید ہے کہ وہ اس معاملے کی سچی اور ایماندارانہ تفتیش کرے تاکہ مستقبل میں کسی اور فوجی کے ساتھ ایسا دھوکہ نہ ہو سکے۔

Read Comments