کراچی رینجرز کیمپ حملہ؛ پاکستان نے افغان سفیر کو شدید احتجاج پر مبنی مراسلہ تھما دیا

کراچی کے واقعے میں براہِ راست افغان شہریوں اور وہاں موجود نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے پکے شواہد ملے ہیں۔
اپ ڈیٹ 29 جون 2026 03:32pm

کراچی میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے حالیہ دہشتگرد حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے خلاف سخت احٹجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ اس سنگین واقعے پر کارروائی کرتے ہوئے افغان ناظم الامور کو فوری طور پر دفترِ خارجہ طلب کیا گیا اور گزشتہ رات افغان طالبان حکومت کو ایک سخت ترین احتجاجی مراسلہ یعنی ڈیمارش تھمایا گیا۔

پاکستان نے اس موقع پر اپنا سخت ترین احتجاج ریکارڈ کروایا ہے کیونکہ کراچی کے واقعے میں براہِ راست افغان شہریوں اور وہاں موجود نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے پکے شواہد ملے ہیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اپنی سرزمین پر ایسا کوئی بھی حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ہفتے کی رات کراچی کے علاقے صفورہ میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ سے عثمان نامی ایک افغان دہشتگرد کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کیا تھا۔

عثمان نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے پاکستان آیا تھا اور اس کے ساتھیوں عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق نے اس کارروائی میں اس کا ساتھ دیا تھا۔

عثمان نے بتایا کہ دہشتگرد جانان نے رینجرز کیمپ پر بم پھینکا تھا اور وہ سب حملے سے سات دن پہلے ہی پاکستان آئے تھے، جہاں انہیں ایک زیرِ تعمیر عمارت میں ٹھہرایا گیا تھا اور حملے کا اسلحہ عبدالہادی نامی دہشتگرد وزیرستان سے لایا تھا۔

اس مقابلے میں رینجرز کے تین بہادر جوان شہید ہوئے تھے جبکہ جوابی کارروائی میں تین حملہ آور موقع پر ہی مارے گئے تھے۔

اس بزدلانہ حملے کے جواب میں پاکستان نے افغان سرحد پر ایک بڑا آپریشن بھی کیا جس میں فتنہ الخوارج کے انتیس دہشتگرد مارے گئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ کے علاقے میں یہ آپریشن کیا، جس میں دہشتگردوں کا بڑا کمانڈر خان فروش عرف زابل اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ پاکستانی فورسز نے سرحد پار افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں بھی سخت ایکشن لیا ہے، جہاں مزید پچیس دہشتگرد مارے گئے ہیں اور ان کے ٹھکانوں میں چھپایا گیا بھاری اسلحہ و گولہ بارود پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے۔

عطاء تارڑ کے مطابق ان تمام مٹائے گئے دہشتگردوں کا تعلق اسی جماعت الاحرار سے تھا جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی تھی۔

دوسری طرف پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں عزم ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اپنے شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لے گا اور عزمِ استحکام آپریشن کے تحت دہشتگردوں کے خلاف یہ جنگ پوری طاقت سے جاری رہے گی۔

Read Comments