128 سال بعد اولمپکس میں کرکٹ کی واپسی: آئی سی سی نے کوالیفکیشن کا طریقہ کار جاری کر دیا
128 سال بعد کرکٹ کا کھیل لاس اینجلس اولمپکس 2028 میں انٹری کے لیے تیار ہے، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹیموں کے کوالیفکیشن کا طریقہ کار جاری کر دیا ہے جب کہ پہلی بار آئی سی سی اولمپکس کوالیفائر 2027 بھی منعقد کیا جائے گا، جس کے ذریعے آخری کوالیفائنگ ٹیموں کا فیصلہ ہوگا۔
دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں سے ایک کھیل کرکٹ بھی ہے، جس کی 128 سال بعد اولمپکس تاریخی واپسی ہونے جا رہی ہے، اس حوالے سے آئی سی سی اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے لاس اینجلس اولمپکس 2028 کے لیے کوالیفکیشن نظام اور ٹورنامنٹ فارمیٹ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
آئی سی سی اور آئی او سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق لاس اینجلس 2028 اولمپکس میں مردوں اور خواتین کے ٹی 20 مقابلوں میں مجموعی طور پر چھ، چھ ممالک حصہ لیں گے جب کہ افریقہ، ایشیا، یورپ اور اوشیانا کی کم از کم ایک، ایک ٹیم کی نمائندگی یقینی بنائی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ایونٹس میں پانچ، پانچ ٹیمیں موجودہ آئی سی سی ٹورنامنٹس اور ٹی 20 انٹرنیشنل رینکنگ کی بنیاد پر کوالیفائی کریں گی جب کہ چھٹی اور آخری نشست کا فیصلہ پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے آئی سی سی اولمپکس کوالیفائر 2027 کے ذریعے ہوگا۔
جاری آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے نتائج کے بعد خواتین کے ایونٹ کے لیے ابتدائی طور پر چار ٹیموں نے اولمپکس میں جگہ بنا لی ہے۔ آسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت اور جنوبی افریقا نے بالترتیب اوشیانا، یورپ، ایشیا اور افریقا سے اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے والی اہل ٹیموں کی حیثیت سے کوالیفائی کیا ہے۔ ہر براعظم سے صرف ایک ٹیم کو براہ راست جگہ دی گئی ہے۔
آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ ویسٹ انڈیز چونکہ متعدد کیریبین ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ رکن ہے اور اسے آئی او سی کی جانب سے نیشنل اولمپک کمیٹی کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، اس لیے وہ اولمپکس میں بطور ٹیم شرکت یا کوٹہ حاصل کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔
تاہم اگر ویسٹ انڈیز کی مردوں یا خواتین کی ٹیمیں 31 دسمبر 2026 تک غیر کوالیفائیڈ ٹیموں میں ٹاپ 8 رینکنگ میں شامل ہوئیں تو اس صورت میں ایک خصوصی کیریبین کوالیفائر منعقد کیا جائے گا، جس کے ذریعے یہ فیصلہ ہوگا کہ کون سا نیشنل اولمپک کمیٹی کا رکن ملک آئی سی سی اولمپکس کوالیفائر 2027 میں کیریبین کی نمائندگی کرے گا۔
اعلامیے کے مطابق امریکا میزبان ملک ہونے کے ناطے مردوں اور خواتین دونوں ایونٹس کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ متعلقہ ٹیم 30 جون 2026 سے 31 دسمبر 2026 کے دوران کسی بھی وقت آئی سی سی ٹی20 انٹرنیشنل رینکنگ میں ٹاپ 15 میں شامل ہو۔
اگر امریکی خواتین کی ٹیم یہ معیار پورا نہ کر سکی تو پانچویں خود کار کوالیفائنگ نشست یکم مارچ 2027 کی ٹی20 انٹرنیشنل رینکنگ کے مطابق کسی بھی براعظم کی سب سے بہتر غیر کوالیفائیڈ ٹیم کو ملے گی۔ اسی طرح اگر امریکی مردوں کی ٹیم ٹاپ 15 میں جگہ بنانے میں ناکام رہی تو پانچویں خودکار نشست 31 دسمبر 2026 تک کی رینکنگ کے مطابق اگلی بہترین غیر کوالیفائیڈ ٹیم کو دی جائے گی۔
مردوں کے ایونٹ میں باقی خود کار کوالیفائنگ مقامات کا فیصلہ 31 دسمبر 2026 کی آئی سی سی ٹی20 انٹرنیشنل رینکنگ کی بنیاد پر ہوگا، جہاں افریقا، ایشیا، یورپ اور اوشیانا کی اعلیٰ رینکنگ رکھنے والی اہل ٹیمیں اولمپکس میں جگہ بنائیں گی۔
دونوں ایونٹس کی آخری نشست کا فیصلہ آئی سی سی اولمپکس کوالیفائر 2027 میں ہوگا، جس میں مردوں اور خواتین کے مقابلوں کے لیے آٹھ، آٹھ ٹیمیں حصہ لیں گی۔ آئی سی سی کے مطابق اس ٹورنامنٹ کی تاریخوں اور میزبان ملک کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
آئی سی سی اولمپکس کوالیفائر میں شریک دیگر سات ٹیموں کا انتخاب متعلقہ ٹی 20 انٹرنیشنل رینکنگ کی بنیاد پر کیا جائے گا تاہم وہ ٹیمیں اس میں شامل نہیں ہوں گی جو پہلے ہی لاس اینجلس اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر چکی ہوں گی۔
آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ نے کہا کہ اولمپک کھیلوں میں کرکٹ کی واپسی اس کھیل کے لیے ایک تاریخی لمحہ اور دنیا کے سامنے کرکٹ کا بہترین چہرہ پیش کرنے کا اہم موقع ہے۔ ان کے مطابق کوالیفکیشن نظام کی منظوری لاس اینجلس 2028 کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے دنیا بھر کے رکن ممالک کو اولمپکس تک رسائی کا واضح راستہ مل گیا ہے۔
جے شاہ نے مزید کہا کہ اولمپک کھیل مختلف کھیلوں کا سب سے بڑا عالمی ایونٹ ہیں اور کرکٹ کی شمولیت دنیا بھر کے کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے باعثِ تحریک ہوگی جب کہ اس سے کھیل کو نئی منڈیوں اور نئے شائقین تک پہنچانے میں بھی مدد ملے گی۔
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا نے کہا کہ اولمپکس میں کرکٹ کی واپسی کھیل کو دنیا کے سب سے بڑے اسپورٹس پلیٹ فارم پر پیش کرنے کا منفرد موقع فراہم کرے گی، جس سے نئی مارکیٹوں میں کھیل کے فروغ کے ساتھ ساتھ دو ارب سے زائد کرکٹ شائقین کو اولمپک تحریک سے بھی جوڑا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ کوالیفکیشن کا یہ ڈھانچہ مسابقتی معیار اور عالمی نمائندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جس میں موجودہ آئی سی سی مقابلہ جاتی نظام سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ایک نیا کوالیفائنگ ایونٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والی ہر ٹیم 15 کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ منتخب کر سکے گی۔ تمام ٹیموں کو تین، تین ٹیموں پر مشتمل دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر ٹیم اپنے گروپ کی دونوں ٹیموں کے خلاف ایک، ایک میچ کھیلے گی، جس کے بعد مخالف گروپ کی ان دو ٹیموں سے مقابلہ کرے گی جو اپنی گروپ پوزیشن میں اس کے برابر نہ ہوں۔
گروپ مرحلے کے اختتام پر سرفہرست دو ٹیمیں گولڈ اور سلور میڈل کے لیے فائنل کھیلیں گی جب کہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیمیں برانز میڈل کے لیے مدمقابل ہوں گی۔
مردوں اور خواتین کے ایونٹس میں مجموعی طور پر 28 میچز کھیلے جائیں گے اور تمام مقابلے پومونا میں خصوصی طور پر تعمیر کیے جانے والے کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گے۔
آئی سی سی نے مزید کہا کہ اولمپک چارٹر کے مطابق ہر بین الاقوامی کھیلوں کی فیڈریشن اپنے کھیل کے اولمپکس میں شرکت کے قواعد اور کوالیفکیشن معیار مقرر کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔