اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی فرار، 4 گرفتار، 10 کی تلاش جاری
راولپنڈی سے اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والے 14 قیدی کہوٹہ کے قریب قیدی وین سے فرار ہوگئے تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا جب کہ باقی 10 مفرور قیدیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ واقعے کے بعد کہوٹہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور شہر کے داخلی و خارجی راستے سیل کر دیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق تحصیل کچہری کہوٹہ میں پیشی کے بعد زیرِ سماعت مقدمات میں نامزد 14 قیدیوں کو راولپنڈی سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا تھا کہ اسلام آباد کے تھانہ سہالہ کی حدود میں چکیاں چیک پوسٹ کے قریب قیدی وین کو معمول کی چیکنگ کے لیے روکا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی وین کا دروازہ کھولا گیا تو ایک قیدی نے اہلکاروں کی آنکھوں میں مرچوں کا پاؤڈر پھینک دیا، جس کے بعد قیدیوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق قیدیوں کے درمیان وین کے اندر شدید جھگڑا بھی ہوا تھا، جس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔
واقعے کے فوری بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا اور 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا، جنہیں تھانہ سہالہ کی حوالات منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ باقی 10 مفرور ملزمان کی تلاش کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کی مشترکہ ٹیمیں مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہیں۔
پولیس نے کہوٹہ کے داخلی اور خارجی راستے سیل کر دیے ہیں، علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک شخص کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی نے سینئر افسران کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچنے، تفصیلی رپورٹ پیش کرنے اور سرچ آپریشن کی نگرانی کی ہدایت کی۔
ترجمان پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات سینئر افسران کی نگرانی میں شروع کر دی گئی ہیں اور غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ادھر راولپنڈی پولیس نے قیدیوں کے فرار سے متعلق عدالت میں استغاثہ بھی جمع کرا دیا ہے جب کہ واقعے کا مقدمہ بھی جلد درج کیا جائے گا۔
دوسری جانب واقعے کے بعد محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے ایس پی ہیڈکوارٹر راولپنڈی مدثر اقبال کو عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے اور انہیں سنٹرل پولیس آفس میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز راولپنڈی امتیاز احمد کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
