اسرائیل کا 'ای ون' منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنگین خطرہ ہے: پاکستان

ہ ای ون منصوبہ فلسطینی علاقوں کے آپس کے زمینی رابطے کو بالکل توڑ کر رکھ دے گا: عاصم افتخار
شائع 30 جون 2026 08:26am

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بار پھر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مضبوط آواز اٹھائی ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔ اس اہم بیٹھک میں پاکستان نے اسرائیل کے اس متنازع ’ای ون آبادکاری‘ منصوبے کو صاف صاف مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان نے دنیا کے بڑے ملکوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کا یہ منصوبہ پورا ہو گیا تو یہ آنے والے وقت میں بننے والی آزاد فلسطینی ریاست کے راستے بند کر دے گا اور فلسطینی زمین کو آپس میں جڑنے نہیں دے گا، جس سے خطے میں دو الگ ریاستیں بنانے کا پرامن حل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان کا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی زمینوں پر زبردستی اپنے لوگوں کو بسانے کا کام بہت تیزی سے چل رہا ہے اور وہاں باہر سے آ کر بسنے والے اسرائیلیوں کی طرف سے مقامی فلسطینیوں پر ظلم اور تشدد کے واقعات اب تک کی سب سے اونچی اور ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ای ون منصوبہ فلسطینی علاقوں کے آپس کے زمینی رابطے کو بالکل توڑ کر رکھ دے گا، جس کی وجہ سے ایک آزاد فلسطینی ریاست بنانے کے امکانات مزید کمزور ہو جائیں گے۔

پاکستانی مندوب نے دنیا کو صورتحال کی سنگینی سمجھانے کے لیے اقوام متحدہ کے سب سے بڑے رہنما یعنی سیکرٹری جنرل کی ایک نئی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا۔

انہوں نے اس رپورٹ کی بات کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 4 ہزار 750 نئے رہائشی یونٹس کی منظوری انتہائی تشویشناک پیش رفت ہے، جو خطے میں امن کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کے برعکس ہے۔

اس کے ساتھ ہی سلامتی کونسل کے بہت سے دوسرے ارکان نے بھی اس خراب صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور ظلم کرنے والوں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان نے فلسطینی اتھارٹی کے پیسے اور مالی وسائل روکے جانے پر بھی گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ اس طرح پیسے روکنے سے فلسطینیوں کے اپنے ادارے کمزور ہو رہے ہیں اور وہاں کے پورے انتظامی نظام کو مفلوج یعنی بیکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ سال اس ای ون منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان اسرائیلی آبادکاروں کے لیے 3 ہزار 401 نئے رہائشی مکانات تعمیر کرنا ہے، تاکہ اس علاقے پر اپنا گھیراؤ تنگ کیا جا سکے۔

Read Comments