ایرانی حملے کے خدشات کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جاری

3 دن کے دوران مجموعی طور پر 108 تصدیق شدہ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے: میرین ٹریفک
شائع 30 جون 2026 10:26am

آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی خدشات اور حالیہ حملوں کے باوجود بحری جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، تاہم جہازوں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ایران اور عمان نے اس اہم آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام سے متعلق ایک مشترکہ سمجھ بوجھ تک پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق عالمی سطح پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی میرین ٹریفک نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتے کے روز دو بحری جہازوں پر حملوں کے باوجود ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت جاری رہی۔

میرین ٹریفک نے اپنے بیان میں کہا کہ تین دنوں کے دوران مجموعی طور پر 108 تصدیق شدہ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

کمپنی کے مطابق 26 جون بروز جمعہ سب سے زیادہ 48 بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے، جبکہ 27 جون بروز ہفتہ 38 اور 28 جون بروز اتوار 22 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق حالیہ حملوں سے پہلے بحری جہازوں کی تعداد زیادہ تھی۔ 25 جون بروز جمعرات 54 جبکہ 24 جون بروز بدھ 70 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

میرین ٹریفک کے مطابق بدھ کے روز ریکارڈ کی جانے والی 70 گزرگاہیں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ تعداد تھی۔ تنازع سے قبل روزانہ تقریباً 130 سے 140 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔

ادھر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے اس اہم آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام پر تبادلہ خیال کیا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر خیالات کا تبادلہ کیا ہے اور دونوں ممالک اس معاملے پر ایک مشترکہ سمجھ بوجھ تک پہنچ گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کاظم غریب آبادی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمان بھی ساحلی ریاست ہونے کے ناطے ان انتظامات کا حصہ بننے کی حمایت کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جانی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی اور آئندہ سات سے آٹھ دن کے اندر ماہرین خصوصی مذاکرات شروع کریں گے تاکہ مجوزہ معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا سکے اور بحری جہازوں کے راستوں پر بات چیت مکمل کی جا سکے۔

آبنائے ہرمز کے مستقبل کا معاملہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کا ایک اہم سبب بھی بن گیا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ عمان کے ساتھ مل کر اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے نئی سروس فیس وصول کی جائے، جبکہ امریکا اس تجویز کی مخالفت کر رہا ہے۔

عمان کا مؤقف اس معاملے پر کسی حد تک غیر واضح رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران اور عمان نے مشترکہ طور پر کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظامی اخراجات کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم بعد میں عمان نے وضاحت کی کہ جہازوں سے کسی قسم کی ”گزرنے کی فیس“ وصول کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

عمان نے اقوام متحدہ کے تعاون سے اپنی ساحلی حدود کے قریب ایک عارضی بحری راہداری قائم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

Read Comments