اسرائیل کا خلا میں حملوں کے لیے لیزر ہتھیاروں کی تیاری کا اعلان

اس مقصد کے لیے ملک کے بہترین دماغوں اور سائنس دانوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے: اسرائیلی وزیر دفاع
شائع 30 جون 2026 12:32pm

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بڑا اور چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک خلا میں دشمنوں پر حملہ کرنے کے لیے خاص قسم کے لیزر ہتھیار تیار کر رہا ہے۔

اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق، وزیر دفاع کاٹز نے اس بات کا اقرار کیا کہ اسرائیل دنیا کا وہ پہلا ملک بننا چاہتا ہے جو خلا میں اپنے دشمنوں کو نشانہ بنانے کی پوری طاقت رکھتا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ملک کے بہترین دماغوں اور سائنس دانوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ آج کے دن تک دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس خلا میں حملے کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے، اور ہمیں اس طاقت کے ساتھ دنیا کا سب سے آگے رہنے والا ملک بننا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نے یہ ہدف حاصل کر لیا تو یہ ہمیں اپنے ان دشمنوں کے مقابلے میں بہت بڑی برتری اور تباہ کن طاقت دے گا جن کے پاس بہت زیادہ وسائل اور دولت موجود ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اسرائیلی عہدیدار نے خلا میں لیزر ہتھیاروں کے استعمال کا کھل کر ذکر کیا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا اشارہ خاص طور پر ایران کی طرف ہے، کیونکہ رواں سال ہونے والی جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کے ان ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا تھا جو خلا میں سیٹلائٹ پر حملہ کرنے کی ٹیکنالوجی بنا رہے تھے۔

تاہم، ماہرین کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ دعویٰ پوری طرح درست نہیں ہے کہ کسی دوسرے ملک کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے، کیونکہ روس اور چین پہلے ہی خلا میں اپنے ہی پرانے سیٹلائٹس کو تباہ کر کے اس کا تجربہ کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ کئی دوسرے ملک بھی خلا میں دشمن کے سیٹلائٹ کو جام کرنے یا نقصان پہنچانے پر کام کر رہے ہیں۔

اسرائیل پہلے ہی زمین پر کام کرنے والا ایک لیزر سسٹم بنا چکا ہے جسے آئرن بیم کہا جاتا ہے، جو راکٹوں اور ڈرونز کو سستے داموں تباہ کر سکتا ہے۔ اب وہ اسی ٹیکنالوجی کو جنگی جہازوں اور خلا میں لے جانا چاہتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر ایران یا کوئی دوسرا ملک اس خلائی دوڑ میں اسرائیل سے آگے نکل گیا، تو وہ اسرائیل کے جاسوسی کرنے والے سیٹلائٹس کو تباہ کر سکتا ہے، جس سے اسرائیل کی نگرانی کرنے کی صلاحیت بالکل ختم ہو سکتی ہے۔

اسی خطرے سے بچنے کے لیے اسرائیل اب خلا کو جنگ کا نیا میدان بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔

Read Comments