لاہور حادثہ: 'بیوی گھر چلانے کے لیے ٹیوشن پڑھاتی تھی، غربت کی وجہ سے نئی چھت نہیں ڈلوا سکا': مکان مالک

میں اپنے بھائیوں اور مستری کے ساتھ مل کر چھت پر ٹائلیں لگا کر اسے ٹھیک کر رہا تھا کہ تعمیراتی کام کے دوران چھت اچانک نیچے گر گئی: ملزم ریحان
شائع 01 جولائ 2026 12:59pm

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں بچوں کی ہلاکت کے بعد گرفتار مکان مالک کا ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں اس نے بتایا کہ وہ غربت کی وجہ سے چھٹ ٹھیک نہیں کرا سکا تھا۔

گزشتہ روز کو لاہور کے ایک گھر میں بنے ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گرنے سے 14 معصوم بچے ملبے تلے دب کر جان کی بازی ہار گئے تھے۔

یہ واقعہ منگل کی شام پونے پانچ بجے کے قریب پیش آیا، جب ایک تنگ گلی میں واقع گھر کے اندر 30 سے زیادہ بچے پڑھنے کے لیے موجود تھے۔ حادثہ اتنا اچانک تھا کہ بچوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھر کے مالک ریحان، اس کے بھائی فیضان اور مستری عمیر کو گرفتار کر لیا اور ان پر غفلت برتنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس حراست میں موجود مرکزی ملزم ریحان نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ، “بارشوں میں ہمارے گھر کی چھت ٹپکتی تھی، غربت کی وجہ سے اتنے پیسے نہیں تھے کہ نئی چھت ڈلوا سکتا۔ گھر کا خرچہ چلانے کے لیے میری بیوی بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔“

ملزم ریحان نے کہا کہ ”میں اپنے بھائیوں اور مستری کے ساتھ مل کر چھت پر ٹائلیں لگا کر اسے ٹھیک کر رہا تھا کہ تعمیراتی کام کے دوران چھت اچانک نیچے گر گئی۔“

حادثے کے بعد امدادی اداروں اور محلے داروں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے بچوں کو نکالا اور اسپتال پہنچایا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق زیادہ تر بچوں کی عمریں 7 سے 14 سال کے درمیان تھیں۔

اسحادثے میں کئی خاندان اجڑ گئے، حتیٰ کہ ایک ہی گھر کے تین بہن بھائی جاں بحق ہو گئے۔

دوسری طرف واقعے کی شروعاتی تفتیشی رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ گھر جس علاقے میں ہے، وہ ڈی ایچ اے کے ماتحت آتا ہے اور وہاں یہ تعمیراتی کام بغیر کسی منظوری یا نقشے کے، غیر قانونی طور پر کیا جا رہا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر بڑے رہنماؤں نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ لیا جائے گا تاکہ واقعے کی مکمل تحقیقات ہو سکیں۔

Read Comments