آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی میتیں تہران کی گرینڈ مصلیٰ مسجد پہنچا دی گئیں

نمازِ جنازہ میں ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے: ایرانی میڈیا
اپ ڈیٹ 03 جولائ 2026 11:51am

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کا جسدِ خاکی دارالحکومت تہران کی گرینڈ مصلیٰ مسجد پہنچا دیا گیا ہے، جہاں ان کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ کے نمازِ جنازہ اور دیگر مذہبی تقریبات میں لاکھوں افراد شریک ہو رہے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً دو کروڑ افراد کی شرکت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر یہ تعداد پوری ہوئی تو یہ ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہوگا۔

ایرانی حکام کے مطابق آخری رسومات کئی مراحل پر مشتمل ہوں گی، جن کے اختتام پر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

اس سے قبل ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے ہوا۔ اس دوران ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں خامنہ ای کا تابوت اس مرکز میں لایا گیا۔

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ایران بھر میں سوگ کی فضا قائم ہے اور شہری اپنے محبوب رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے 6 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے تاکہ عوام نمازِ جنازہ اور دیگر سوگوار تقریبات میں شرکت کر سکیں۔

حکومتی ترجمان کے مطابق 8 جولائی کو ملک بھر میں یومِ سوگ بھی منایا جائے گا، جس کے دوران سرکاری سطح پر خصوصی تقریبات اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات ملک کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے اور عوام بڑی تعداد میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے آخری رسومات میں شریک ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے بتایا تھا کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں سربراہانِ مملکت، پارلیمانی رہنما، وزرائے خارجہ اور مختلف ممالک کے خصوصی سرکاری نمائندے شرکت کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعہ 3 جولائی کی صبح 8 بجے تہران میں الوداعی تقریب کا آغاز ہوگا، جب کہ اسی روز غیر ملکی وفود اور اعلیٰ سیاسی شخصیات بھی تعزیتی تقریبات میں شریک ہوں گی۔

ان کے بقول یہ تقریب نہ صرف ایرانی عوام بلکہ خطے، مسلم دنیا اور دیگر اقوام کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔

دوسری جانب سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور نمازِ جنازہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان سے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ایک وفد تہران پہنچ چکا ہے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد آج (جمعہ) تہران روانہ ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی تہران پہنچ چکے ہیں جہاں آمد پر ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے اُن کا استقبال کیا۔

سید علی خامنہ ای کے جنازہ اور تدفین کی سات روزہ تقریبات کا آغاز آج (تین جولائی) سے تہران میں ہو رہا ہے جبکہ اِن تقریبات کا اختتام نو جولائی کو مشہد میں حرم امام رضا میں تدفین پر ہو گا۔

یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے ابتدائی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں ان کی بہو اور موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شہید ہو گئی تھیں۔

Read Comments