شدید گرمی اور لو میں بغیر اے سی کے خود کو ٹھنڈا رکھنے کے طریقے

رات کے وقت بھی جسم کو دن بھر کی گرمی سے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔
شائع 05 جولائ 2026 11:43am

دنیا بھر میں گرمی کی لہر یعنی ہیٹ ویو کی وجہ سے درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ایسے میں جن لوگوں کے گھروں میں اے سی یعنی ایئر کنڈیشنر نہیں ہیں، ان کے لیے خود کو ٹھنڈا رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کا خطرہ صرف درجہ حرارت سے نہیں بلکہ ہوا میں موجود حبس اور نمی سے بھی بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھار کم درجہ حرارت میں بھی زیادہ حبس کی وجہ سے انسان جلدی بیمار ہو سکتا ہے۔

اس شدید موسم میں بنا اے سی کے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ماہرین نے چند بہت ہی آسان اور کارآمد طریقے بتائے ہیں۔

ڈیوک یونیورسٹی کے ہیٹ پالیسی انوویشن ہب کی ڈائریکٹر ایشلے وارڈ کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران رات کا درجہ حرارت سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ رات کے وقت آپ کے جسم کو دن بھر کی گرمی سے آرام کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اگر رات کو بھی درجہ حرارت 24 ڈگری سے نیچے نہ گرے تو جسم کو سکون نہیں ملتا۔ اس کی وجہ سے اگلے دن انسان کی کام کرنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے، لوگ بیمار ہو کر ہسپتال پہنچتے ہیں اور یہاں تک کہ اموات بھی ہو سکتی ہیں۔

ایشلے وارڈ نے مشورہ دیا کہ اگر آپ کے پاس پورے گھر کو ٹھنڈا رکھنے کی سہولت نہیں ہے، تو گھر میں کوئی ایک ”ٹھنڈا کونا“ بنا لیں اور رات کو وہیں سوئیں تاکہ جسم کو کچھ سکون مل سکے اور وہ اگلے دن کی گرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ کے علاقے میں خشک گرمی ہے تو کولر کام کر سکتا ہے، لیکن اگر ہوا میں حبس زیادہ ہو تو صرف پنکھا چلانا بہتر رہتا ہے۔ کیونکہ ایسے کولر نمی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اگر گھر میں بہت زیادہ گرمی ہو تو کچھ وقت کے لیے قریبی بازار، مال یا لائبریری جیسی عوامی جگہوں پر چلے جائیں جہاں اے سی کا انتظام ہو۔

دوسری طرف یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (یو سی ایل اے) کے ہیٹ لیب کے ڈائریکٹر بھارت وینکٹ کا کہنا ہے کہ باہر دھوپ اور گرمی میں کام کرنے والے مزدوروں کو اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر مزدوروں کا اپنے وقت یا کام کی جگہ پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود انہیں خود کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات مزدوروں کو سایہ دار جگہ پر آرام کرنے کا بھی موقع نہیں ملتا کیونکہ اس سے ان کی اجرت متاثر ہو سکتی ہے یا انتظامیہ رکاوٹ بنتی ہے۔

بھارت وینکٹ نے کہا کہ ایسے حالات میں جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دینا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کام کے دوران بار بار پانی یا کوئی بھی ٹھنڈا مشروب پیتے رہیں، اپنے کپڑوں کو گیلا کر لیں، یا ٹھنڈا پانی اور گیلا کپڑا اپنے ہاتھوں، پیروں، بغلوں اور گردن پر رکھیں، اس سے جسم کا درجہ حرارت جلدی نیچے آتا ہے۔ ان کے مطابق ہاتھ میں پکڑنے والا چھوٹا پنکھا یا کولنگ جیکٹ بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کرنے والے افراد دن کے ٹھنڈے اوقات میں ورزش کریں اور اپنی ضرورت سے زیادہ پانی ساتھ رکھیں۔

ماہرین نے گرمی سے ہونے والی بیماری کی نشانیاں بھی بتائی ہیں تاکہ لوگ وقت پر اپنی جان بچا سکیں۔ بھارت وینکٹ کے مطابق شروع میں انسان کو بہت زیادہ پسینہ آتا ہے، پٹھوں میں کھنچاؤ ہوتا ہے اور سر میں درد شروع ہوتا ہے۔

اگر ایسا ہو تو فوراً کام روک کر کسی ٹھنڈی جگہ پر چلے جائیں۔ لیکن اگر بات اس سے آگے بڑھ جائے تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور چکر آنے لگتے ہیں، جسے ہیٹ اسٹروک یا لو لگنا کہتے ہیں۔ اس حالت میں انسان بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔

ایشلے وارڈ نے اس بارے میں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کو محسوس ہو کہ گرمی کی وجہ سے طبیعت زیادہ خراب ہو رہی ہے تو ڈاکٹر سے رابطہ کرنے یا امدادی نمبر پر فون کرنے میں بالکل عار محسوس نہ کریں۔

Read Comments