غیر ملکی خواتین اغوا کیس: ڈی آئی جی فیصل کامران اور صحافیوں میں سخت نوک جھونک
لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کیس سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کیس سے متعلق صحافیوں کو بریفنگ دی تاہم صحافیوں کے سخت سوالات پر وہ پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔
لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ غیر ملکی خواتین کو پولیس نے بازیاب نہیں کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یکم جولائی کو دوپہر 12 بج کر 40 منٹ پر پولیس کو ایک کال موصول ہوئی، جس کے بعد قانونی کارروائی شروع کرکے لوکیشن ٹریسنگ کا عمل شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین کی بازیابی ممکن ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں خواتین 3 جولائی کو پاکستان سے روانہ ہوئیں اور متاثرہ خواتین کے اپنے بیانات موجود ہیں کہ انہیں پنجاب پولیس نے بازیاب کرایا ہے۔
ڈی آئی فیصل کامران نے دعویٰ کیا کہ روانگی کے وقت دونوں خواتین نے لاہور پولیس کے رویے کو سراہا اور یادگار کے طور پر پاکستان کا قومی پرچم ساتھ لے جانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک ملزم کے اعلیٰ حکومتی وزیر سے تعلق کے باوجود پولیس مقدمے کی تفتیش کے دوران تمام ملزمان سے یکساں سلوک کررہی ہے۔
بریفنگ مکمل ہونے کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور صحافیوں کے درمیان سخت نوک جھونک دیکھنے میں آئی۔
ڈی آئی جی فیصل کامران نے کیس کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے سپرد نہ کیے جانے سے متعلق سوال پر کہا کہ یہ کیس سی سی ڈی کا نہیں بنتا، اس لیے اس کی تحقیقات لاہور پولیس کر رہی ہے۔
ایک صحافی نے ڈی آئی جی فیصل کامران سے مجسٹریٹ کے گھر پولیس کے داخلے کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں آپ کا نام بھی سامنے آیا ہے، کیا آپ اس پر استعفیٰ دیں گے؟
جواب میں ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا کہ میں آپ کے سوالات کو سمجھ رہا ہوں اور آپ نے یہ سوال کس اینگل سے کیا، اس کا بھی مجھے علم ہے۔
اسی دوران اُن سے ’باس‘ نامی کردار سے متعلق بھی سوال ہوا جس پر ان کا کہنا تھا کہ ’باس‘ وحید نامی شخص ہے جس پر کئی مقدمات درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب متاثرہ خواتین کو وحید کی تصویر دکھائی گئی تو انہوں نے اس کی تصدیق کی اور تصویر کو دیکھتے ہی چیخ و پکار شروع کردی۔
اسی دوران کچھ صحافیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ دراصل ’باس‘ کوئی دوسری شخصیت ہیں جنہیں بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس پر فیصل کامران کا کہنا تھا کہ ’یہ غلط بیانی ہے‘۔
ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ اس کیس میں ملزمان کو پہلے نامعلوم ظاہر کیا گیا اور اس میں دہشت گردی کی دفعات کیوں نہیں لگائی گئیں۔
ڈی آئی جی فیصل کامران کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں خاتون نے ایف آئی آر کے اندراج کے وقت جو مؤقف اختیار کیا اسی کے مطابق تفتیش کا دائرہ آگے بڑھایا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 8 ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں، جن میں سے 4 کا ریمانڈ لیا جاچکا ہے جب کہ مزید ملزمان کا بھی ریمانڈ لیا جائے گا۔
متاثرہ خواتین کے دفعہ 164 کے تحت درج بیانات منظرِعام پر آنے اور پولیس کے مجسٹریٹ کے گھر جانے سے متعلق مقدمے میں شامل تفتیش ہونے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ بیان کیسے لیک ہوا۔
اسی دوران انہیں مزید سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے پریس کانفرنس ختم کردی۔ جس کے بعد صحافیوں نے احتجاج شروع کر دیا۔