یوکرین جنگ: صدر ٹرمپ نے روسی ہم منصب پیوٹن کو بڑی آفر کردی

امریکی صدر نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی رابطہ کیا۔
شائع 05 جولائ 2026 09:39pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فونک گفتگو میں یوکرین جنگ کے حل کے لیے مدد کی پیشکش کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی رابطہ کیا، جنہوں نے گفتگو کو مثبت قرار دیتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہفتے کے روز امریکا کے یومِ آزادی کے موقع پر تقریباً 90 منٹ تک ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے آئندہ ہفتے ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے تناظر میں یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ لڑائی کے جلد خاتمے اور بحران کے حل کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کے مطابق گفتگو کاروباری نوعیت کی اور تعمیری رہی جب کہ روس نے ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ تنازع کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ہونا چاہیے اور اس میں روس کے بنیادی مؤقف کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔

کریملن کے معاون نے الزام عائد کیا کہ یوکرین اور اس کے یورپی اتحادی جنگ کو طول دینے اور مزید شدت اختیار کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا اشارہ روس کے اندر تیل سے متعلق تنصیبات پر یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کی جانب تھا، جن کے باعث بعض روسی علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی۔

اوشاکوف نے بتایا کہ صدر پیوٹن نے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ کو محاذِ جنگ کی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ روسی افواج مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں اور مختلف علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رہی ہیں۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک خطے میں واقع اہم شہر کوستیانتینیوکا پر قبضہ کر لیا ہے تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یوکرین کی جنرل اسٹاف نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہر اب بھی یوکرینی افواج کے کنٹرول میں ہے۔

روس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں ڈونباس خطے پر ماسکو کا مکمل کنٹرول تسلیم کیا جانا چاہیے جب کہ یوکرین اس مطالبے کو مسترد کرتا ہے۔

یوری اوشاکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر امن معاہدے کی کوششیں جاری رکھیں گے اور ایک بار پھر ماسکو کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صدر پیوٹن نے ایران سے متعلق تنازع میں امریکی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے ذریعے بھی قابل قبول اور دیرپا حل تلاش کیا جا سکے گا۔ پیوٹن نے ٹرمپ کو ماسکو کے دورے کی اپنی سابقہ دعوت بھی دہرائی۔

دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی صدر ٹرمپ سے ہونے والی گفتگو ”انتہائی اچھی“ رہی، جس میں تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل محاذ پر جاری جنگی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

زیلنسکی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا حقیقی امکان موجود ہے اور اس سلسلے میں امریکا کے عزم کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ترکی میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے موقع پر بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

Read Comments