پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن کا قتل: ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے کیا ہوشیاری دکھائی؟
اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق کی جان لینے والے ملزم سعد عباسی کو پولیس نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے صرف نو گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا ہے، اور اس کارروائی کی تمام تصویریں اور ویڈیوز بھی سامنے آ گئی ہیں۔
یہ افسوسناک واقعہ شاہین چوک پر اس وقت پیش آیا تھا جب ملزم سعد عباسی زبردستی ایک لڑکی کو اپنی موٹرسائیکل پر بٹھا کر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔
وہاں سے گزرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق نے جب اس لڑکی کو مشکل میں دیکھا تو انہوں نے اپنی گاڑی روکی اور لڑکے کو اس حرکت سے منع کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران دونوں میں بحث اور تلخ کلامی بڑھ گئی اور ملزم نے غصے میں آ کر گروپ کیپٹن عاصم طارق پر گولی چلا دی، جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
اس بہادری پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ایک بے گناہ خاتون کے تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا اعلیٰ انسانی اقدار اور قومی خدمت کی روشن مثال ہے، تاہم اسلام آباد کی اہم شاہراہ پر ایسی واردات ہونا باعثِ تشویش ہے جس کا سدِباب ضروری ہے۔
دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق نے ایک خاتون کی جان اور عزت کے تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بے مثال جرأت، بہادری اور فرض شناسی کی مثال قائم کی ہے اور قوم ایسے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد آئی جی اسلام آباد پولیسکے حکم پر ایس پی سٹی ایاز حسین اپنی ٹیم کے ساتھ فوراً جائے وقوعہ پر پہنچے۔ پولیس نے شہر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی تو پتہ چلا کہ ملزم واردات کے بعد غوری ٹاؤن پہنچا، جہاں اس نے ایک گلی میں اپنے دوست کے گھر پر موٹرسائیکل کھڑی کی۔
اس کے بعد ملزم نے ایک آن لائن بائیک رائڈر کو بلایا اور اس پر بیٹھ کر مارکیٹ چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر ملزم نے اپنے ایک اور دوست کی فارمیسی یعنی میڈیکل اسٹور پر اپنا بیگ رکھا اور پہچان چھپانے کے لیے دکان سے ایک نئی شرٹ خریدی۔
نئی شرٹ پہننے کے بعد ملزم سعد عباسی فیض آباد بس اڈے کی طرف روانہ ہو گیا۔
پولیس نے اپنی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے کیمروں کی مدد سے اس آن لائن بائیک چلانے والے رائڈر کو ڈھونڈ نکالا اور اس کا بیان ریکارڈ کیا۔
اس کے بعد پولیس نے چابک دستی سے کام لیتے ہوئے تین الگ الگ ٹیمیں بنائیں۔ ایک ٹیم کو ملزم کی موٹرسائیکل قبضے میں لینے کے لیے بھیجا گیا، دوسری ٹیم کو اس فارمیسی پر روانہ کیا گیا جہاں ملزم نے بیگ چھوڑا تھا، اور تیسری ٹیم کو فیض آباد روانہ کیا گیا۔
فیض آباد میں اسکائی ویز بس اڈے سے پولیس کو پکی معلومات ملیں کہ ملزم سعد عباسی بس میں بیٹھ کر لاہور کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔
اسی دوران شام ساڑھے چھ بجے ملزم کے اس دوست کو، جس کے گھر موٹرسائیکل کھڑی تھی، ایک نامعلوم نمبر سے فون آیا جو کہ ملزم سعد کا ہی تھا۔ پولیس نے اس فون کال اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کا پیچھا جاری رکھا اور اسے لاہور پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں دبوچ لیا۔
