معاہدہ نہ ہوا تو ایران کا انفراسٹرکچر چند گھنٹوں میں ختم کر سکتے ہیں: صدر ٹرمپ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا مختصر وقت میں ایران کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم امریکا اپنے مقاصد ہر صورت حاصل کرے گا۔
اوول آفس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کو عسکری لحاظ سے شکست دی ہے اور دنیا کو ایک بار پھر امریکا کی فوجی طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مسلح افواج دنیا کی طاقت ور ترین افواج میں شمار ہوتی ہیں اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سفارتی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران کا بنیادی انفراسٹرکچر مختصر وقت میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہر صورت اپنے مقاصد حاصل کرے گا، چاہے وہ معاہدے کے ذریعے ہوں یا کسی اور طریقے سے۔
انھوں نے کہا کہ ہم یا تو معاہدہ کریں گے یا پھر اپنا کام مکمل کریں گے، اور یہ مشکل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ 9 کروڑ 10 لاکھ ایرانی عوام کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا ایک گھنٹے کے اندر ایران کے پل، توانائی کی فراہمی، بجلی کے نظام اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کے بقول، دوپہر کے چند ہی گھنٹوں میں ایران کے تمام پاور پلانٹس ختم کیے جا سکتے ہیں اور وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز بہت مشہور ہے، اگرچہ پہلے شاید بہت سے لوگوں نے اس کا نام بھی نہیں سنا تھا، لیکن یہ دنیا کی معیشت کے لیے ایک بہت بڑی دولت کا ذریعہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی کارروائی کا واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خواہاں نہیں، تاہم ان کے بقول اگرچہ یہ حکومت کی تبدیلی ہی ہے۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے انتخابی سرویز میں پیچھے رہنے کے بعد کرپٹو کرنسی سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں بائیڈن حکومت کرپٹو کی سخت مخالف تھی اور اس شعبے سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ جب ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تو بائیڈن انتظامیہ نے اچانک کرپٹو کے حق میں مؤقف اختیار کر لیا، تحقیقات ختم کر دیں اور گرفتار افراد کو بھی رہا کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کرپٹو کے حامی ہیں، تاہم اس معاملے میں اپنے بچوں کے کاروباری فیصلوں پر نہ تو اثر انداز ہوتے ہیں اور نہ ہی ان سے اس حوالے سے بات کرتے ہیں، کیونکہ ان کے بقول صدارتی منصب اس سے کہیں بڑی ذمہ داری ہے۔
امریکی صدر نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ چار برس کے اندر امریکی اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں کو چھوئے گی اور اب اس کے آثار نمایاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ مارکیٹ مزید تیزی سے اوپر جائے گی۔
تقریب کے دوران امریکی صدر نے ٹرمپ اکاؤنٹس پروگرام کا باضابطہ آغاز بھی کیا، جس کا مقصد نومولود بچوں کو ابتدائی مالی بنیاد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں سرمایہ کاری اور بچت کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کر سکیں۔
اس موقع پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ اس پروگرام میں اب تک 60 لاکھ بچوں کا اندراج ہو چکا ہے، جن میں 86 فی صد ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی سالانہ آمدنی دو لاکھ ڈالر سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 لاکھ بچوں کے اکاؤنٹس میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایک ہزار ڈالر کی ابتدائی رقم بھی جمع کرائی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ ان اکاؤنٹس میں موجود سرمایہ جلد نکالنے کے بجائے طویل مدت تک برقرار رکھیں تاکہ بچوں کو 18 سال کی عمر تک نمایاں مالی فائدہ حاصل ہو سکے۔
انھوں نے کہا کہ یہ مفت سرمایہ کاری بچت اکاؤنٹس بچوں کو کم عمری میں ہی مضبوط مالی بنیاد فراہم کریں گے۔ ان کے بقول، جس بچے کے پاس آج کوئی سرمایہ نہیں، وہ کم عمری میں ہی لاکھوں ڈالر کا مالک بن سکتا ہے اور ان اکاؤنٹس کی مالیت ایسے اعداد تک پہنچ سکتی ہے جس کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔
اس موقع پر ٹرمپ نے اوول آفس سے نیویارک اسٹاک ایکسچینج اور نیسڈیک کی افتتاحی گھنٹی بجا کر ایک منفرد روایت بھی قائم کی، جسے ان کے حامیوں نے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔
اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران اس وقت دل چسپ صورتِ حال پیدا ہوگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز کو سپریم کورٹ کا جج نامزد کرنے سے متعلق مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا۔ ان کے ریمارکس پر تقریب میں موجود شرکا قہقہوں سے گونج اٹھے۔
ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر وہ ٹیڈ کروز کو سپریم کورٹ کے لیے نامزد کریں تو انہیں سینیٹ میں 100 فی صد ووٹ مل جائیں گے، کیونکہ تمام قانون ساز انہیں کسی نہ کسی طرح سینیٹ سے باہر بھیجنا چاہیں گے۔ ان کے اس طنزیہ جملے پر تقریب میں موجود شرکا بھی ہنس پڑے۔