امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندی عائد کردی، تہران کی سنگین نتائج کی دھمکی

امریکی حکومت کا یہ اقدام اسلام آباد امن معاہدے کی شق 10 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے: ایران
شائع 08 جولائ 2026 08:45am

امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں ہونے والا امن معاہدہ صرف بیس دن کے اندر ہی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کے روز ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایران کو بین الاقوامی منڈیوں میں تیل بیچنے کی دی گئی عارضی اجازت نامے کو منسوخ کر کے دوبارہ پابندیاں لگا دی ہیں۔

امریکا نے یہ سخت قدم آبنائے ہرمز میں تیل کے بحری جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں اٹھایا ہے۔

امریکی فیصلے کے فوراً بعد بدھ کی صبح ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا پر معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ کے ماتحت کام کرنے والے ادارے اوفیک کے ڈائریکٹر بریڈلی سمتھ نے اس فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ نئی پابندی سات جولائی سے لاگو ہو چکی ہے اور اب ایران سے کسی بھی قسم کے نئے کاروباری معاہدے یا تیل خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اب صرف وہی لین دین ہو سکے گا جو پرانے معاہدوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے امریکی حکومت کے ایک ترجمان نے ’سی این بی سی ٹی وی‘ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کو فائدہ صرف اسی صورت میں ملے گا جب وہ اچھے رویے کا مظاہرہ کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائیاں امریکا کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں تھیں اور ان کے نتائج تو بھگتنا ہوں گے۔

امریکہ کے اس اچانک فیصلے پر ایران کی وزارتِ خارجہ نے شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ اقدام 18 جون کو دستخط کیے گئے اسلام آباد امن معاہدے کی شق 10 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

ایرانی حکومت نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی حکومت کی بدنیتی، غیر مستقل مزاجی اور اپنے وعدوں سے مکر جانے کا ایک اور بڑا ثبوت ہے۔

ایران نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پچھلے بیس دنوں میں امریکا نے خود یا اسرائیل کے ذریعے لبنان پر حملے کروا کر اس معاہدے کی کئی بار چھوٹی اور بڑی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ ہم نے تو پوری ایمانداری کے ساتھ معاہدے کی تمام شرطوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل استعمال کیے، لیکن امریکی حکومت ہمیشہ کی طرح مختلف بہانے بنا کر اپنی خلاف ورزیوں کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس معاہدے کی خلاف ورزی کے نتائج پر تنبیہ کرتے ہیں اور ایران اپنے قومی مفادات اور سیکیورٹی کی حفاظت کے لیے جو بھی قدم ضروری سمجھے گا، وہ اٹھائے گا۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ امریکا ایران پر سے کاروباری پابندیاں ہٹائے گا، لیکن امریکا نے اس شرط کو اس بات سے جوڑا تھا کہ ایران بین الاقوامی جہازوں کے لیے سمندری راستے کو کھلا اور محفوظ رکھے گا۔

Read Comments