'ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے'، ارجنٹینا کی جیت کے بعد مصر کے کوچ کا الزام
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ایک اہم ناک آؤٹ میچ میں ارجنٹینا نے دو گول کے خسارے کے باوجود شاندار واپسی کرتے ہوئے مصر کو 2-3 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس شکست کے ساتھ ہی مصر کا ورلڈ کپ میں سفر ختم ہو گیا، تاہم میچ کے بعد مصری کوچ حسام حسن اور کھلاڑی مصطفیٰ زیکو نے ریفری کے فیصلوں پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے۔
میچ کے آغاز میں مصر نے عمدہ کھیل پیش کیا اور برتری حاصل کر لی۔ بعد ازاں جب مصر 0-1 سے آگے تھا تو مصطفیٰ زیکو نے ایک اور گول کر دیا، لیکن وی اے آر نے ایک پہلے ہونے والے فاؤل کی نشاندہی کرتے ہوئے اس گول کو مسترد کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد مصری ٹیم اور کوچ نے شدید احتجاج کیا۔
میچ کے دوسرے ہاف میں ارجنٹینا نے زبردست واپسی کی۔ کرسٹین رومیرو نے اپنی ٹیم کا پہلا گول کیا، اس کے بعد کپتان لیونل میسی نے دوسرا گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔ آخر میں اینزو فرنانڈیز نے فیصلہ کن گول اسکور کر کے ارجنٹینا کو 3-2 کی کامیابی دلا دی۔
اس سے قبل پہلے ہاف میں لیونل میسی کو ملنے والی پنالٹی پر مصر کے گول کیپر مصطفیٰ شوبیر نے شاندار بچاؤ کرتے ہوئے انہیں گول کرنے سے روک دیا تھا۔
میچ کے بعد مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’میں اسے قسمت کی خرابی کہہ کر بات کو ہلکا نہیں کرنا چاہتا، آج ہمارے ساتھ کھلم کھلا ناانصافی اور دھاندلی ہوئی ہے۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ ارجنٹینا کے فیصلہ کن گول سے پہلے مصر کے کھلاڑی حمدی فتحی کی قمیض کھینچی گئی تھی، جس پر ان کی ٹیم کو پنالٹی ملنی چاہیے تھی، لیکن ریفری نے اس واقعے کو نظرانداز کر دیا۔
حسام حسن نے کہا، ’ہمیں کہیں بھی انصاف یا ایمانداری کا کھیل نظر نہیں آیا۔ ایک پنالٹی ہمیں نہیں دی گئی اور وی اے آر نے اسے چیک تک نہیں کیا، جبکہ ہمارا دوسرا گول بھی مسترد کر دیا گیا۔ ہم سب نے دیکھا کہ قمیض کھینچی گئی تھی لیکن پھر بھی ریفری نے ویڈیو نہیں دیکھی۔‘
مصری کوچ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شاید عالمی چیمپئن ارجنٹینا اور اس کے اسٹار کھلاڑی لیونل میسی کو ٹورنامنٹ میں برقرار رکھنے کے لیے دباؤ موجود تھا۔ ان کے بقول، ’شاید وہ چاہتے تھے کہ عالمی چیمپئن ٹیم اس ٹورنامنٹ میں رہے، شاید وہ چاہتے تھے کہ میسی اس دوڑ میں شامل رہیں۔ فٹ بال میں کبھی کبھی کھیل سے ہٹ کر بھی کچھ عوامل اثر انداز ہوتے ہیں اور عالمی چیمپئن ٹیم کو ہر سطح پر مدد ملی ہے۔‘
حسام حسن نے مزید اعلان کیا کہ وہ احتجاجاً ورلڈ کپ کے باقی میچ نہیں دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا، ’میں اب اس ورلڈ کپ کے میچ نہیں دیکھوں گا، احتجاج کرنے کا یہ میرا اپنا طریقہ ہے۔‘
انہوں نے میچ کے وقت پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا، ’جس نے بھی یہ وقت رکھا ہے اس نے کبھی فٹ بال نہیں کھیلا۔ دوپہر 12 بجے لوگ گھومنے پھرنے یا کھانا کھانے جاتے ہیں، فٹ بال کھیلنے نہیں آتے۔ کھلاڑی صبح ساڑھے سات بجے کھانا کیسے کھا سکتے ہیں؟ میدان کے اندر اور باہر کئی ایسے معاملات ہیں جن پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔‘
ادھرارجنٹینا کو ایک اور ورلڈ کپ جتوانے کے شبہات پر مصری فٹبالر مصطفیٰ زیکو کے بیانات اس وقت دنیا بھر میں ہلچل مچا رہے ہیں۔
میچ کے بعد انہوں نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’ریفری ناانصافی کر رہا تھا، یہ صاف اور کھلم کھلا ظلم ہے۔ اس نے پوری قوم کی محنت پر پانی پھیر دیا، وہ شروع سے ہی ہمارے خلاف تھا۔‘
زیکو نے مزید کہا، ’یہ ایک فکسڈ میچ تھا۔ اللہ ہی میرا گواہ اور میرا سب سے بڑا محافظ ہے۔ میں مصر کے تمام لوگوں سے معذرت خواہ ہوں۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہم کیا کریں، لیکن یہ سب ریفری کے فیصلے کی وجہ سے ہوا۔‘
انہوں نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا، ’یہ چیمپئن شپ پہلے سے طے شدہ ہے۔ ارجنٹینا کو ایک اور ورلڈ کپ جتوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
ان تمام تنازعات کے درمیان ارجنٹینا نے شاندار کم بیک کے ذریعے کوارٹر فائنل میں اپنی جگہ مضبوط کر لی ہے اور ان کے کھلاڑی اس کامیابی پر فتح کا جشن مناتے نظر آئے، جبکہ مصر کی ٹیم ایک یادگار مقابلے کے باوجود ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی، تاہم اس کی کارکردگی کو ایک سخت مقابلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔