آیت اللہ خامنہ کی تدفین سے قبل امریکا کے مشہد سمیت ایران پر نئے فضائی حملے

ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر ڈرون برسا دیے، تہران کا ایٹمی پالیسی تبدیل کرنے کا عندیہ
شائع 09 جولائ 2026 08:19am

امریکا نے ایران پر نئے اور پہلے سے بھی بڑے فضائی حملے کیے ہیں تاکہ سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کو جہازوں کے لیے کھلا رکھا جا سکے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی کویت اور بحرین میں بنے امریکی فوجی اڈوں پر دوسرے دن بھی میزائلوں اور ڈرونز سے حملے جاری رکھے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ بحرین اور کویت پر کیے گئے حملے ایران کے جنوبی ساحلی صوبوں اور ”مقدس شہر مشہد کی طرف جانے والے مشرقی صوبوں کے دو پلوں“ پر امریکی حملوں کا بدلہ تھے۔

مشہد وہی شہر ہے جہاں ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آج تدفین ہوگی۔

آئی آر جی سی نے کہا کہ امریکی حملوں کا مقصد خامنہ ای کی اس ”تاریخی“ نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریب کو خراب کرنا تھا۔

اس سے پہلے ایرانی سرکاری میڈیا (آئی آر آئی بی) نے بتایا تھا کہ امریکی افواج نے آق قلا شہر کے باہر واقع ’آق ٹیکہ خان‘ پل پر سات میزائل داغے تھے، جس کی وجہ سے ریلوے ٹریک پر دو بڑے دھماکے ہوئے۔

یہ تازہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ میں نیٹو اجلاس کے موقع پر صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے صاف کہا کہ میرے خیال میں ایران کے ساتھ ہونے والا عارضی امن معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے اور میں اب ان کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ ”یہ نئے حملے ایران کی طرف سے مال بردار جہازوں پر بمباری کا بدلہ ہیں اور اگر ایران نے دوبارہ ایسا کیا تو اس کا انجام اس سے بھی زیادہ برا ہوگا۔“

امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ نے بھی بتایا کہ ہم نے یہ حملے ایران کی اُس طاقت کو توڑنے کے لیے کیے ہیں جس سے وہ سمندر میں تجارتی جہازوں کو دھمکاتا ہے۔“

سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ ”امریکی افواج نے ایران کی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ تقریباً 90 ایرانی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹمز)، ساحلی نگرانی کے آلات، میزائل اور ڈرون رکھنے کے گودام، بحری جنگی صلاحیتیں اور فوج کو سامان پہنچانے والا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے“۔

گزشتہ روز امریکی افواج نے ایران میں 80 سے زیادہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اِن حملوں کے بعد ایران کے کئی شہروں میں بجلی چلی گئی اور پٹرولیم بازار میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ کر تقریباً 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔

دوسری طرف ایران کے سب سے بڑے مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو کڑا جواب دیتے ہوئے انٹرنیٹ پر لکھا کہ ”امریکا کو اب تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ بدمعاشی کرنے اور اپنے وعدے توڑنے کا دور اب گزر چکا ہے اور اب اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔“

انہوں نے لکھا کہ ”میں یہ بات صاف کر دوں کہ اگر تم ہمیں مارو گے تو آگے سے تمہیں بھی مار پڑے گی۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”آبنائے ہرمز کا سمندری راستہ صرف ایران کے اصولوں کے مطابق ہی کھلے گا، امریکا کی دھمکیوں سے کچھ نہیں ہوگا۔“

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی طیاروں نے ایران کے سب سے بڑے ساحلی شہر بندر عباس اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ساحلی شہروں چاہ بہار اور کنارک کو نشانہ بنایا جہاں ایک جہاز رانی کو کنٹرول کرنے والا ٹاور بھی تباہ ہو گیا۔

اس کے علاوہ ایران کے ایک اور شہر ایران شہر کے ہوائی اڈے پر حملے کے دوران ایک فائر بریگیڈ کا ملازم بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر معاہدہ توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اس شرط کی خلاف ورزی کی ہے جس میں سمندری راستے کی حفاظت کی ذمہ داری ایران کو دی گئی تھی۔

ایران کی پارلیمنٹ نے تو اب یہاں تک دھمکی دے دی ہے کہ وہ بدلے میں ایٹمی معاہدوں سے الگ ہو سکتے ہیں اور اپنے ایٹمی قانون کو بھی بدل سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے بھی ایک باضابطہ خط لکھ کر امریکا پر عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ یہ لڑائی کسی بہت بڑی عالمی جنگ میں نہیں بدلے گی بلکہ جو کچھ بھی ہوگا وہ بہت جلدی ختم ہو جائے گا اور اس سے دنیا بھر کے لیے تیل کا راستہ اور زیادہ محفوظ ہو جائے گا۔

Read Comments