ضرورت پڑی تو ایران پر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ کریں گے: اسرائیلی وزیر دفاع
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو اسرائیل ایران پر پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے کہا ہے کہ فوج ایران اور لبنان کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئیں ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان نئی جھڑپوں کے بعد خطے میں ایک بار پھر مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ہتزیریم ایئر بیس پر منعقدہ ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار اور ہائی الرٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج لڑائی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں فضائی برتری دوبارہ حاصل کرنے اور ایران پر ایک بار پھر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ممکنہ خطرات کو ختم کیا جا سکے اور اگر ضرورت پڑی تو تیسری بار بھی کارروائی کی جائے گی۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ”اگر ہمیں دوبارہ جانا پڑا تو ہم پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ واپس جائیں گے۔“
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان نئی فوجی جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں، جس کے باعث اپریل میں ہونے والی جنگ بندی اور جون میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بعد ایک مرتبہ پھر مکمل جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی گزشتہ 2 فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کمزور ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ایرانی محور پہلے سے کہیں زیادہ کمزور جب کہ اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔“
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فضائیہ نے ثابت کیا ہے کہ وہ یمن سے لے کر ایران تک کہیں بھی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی مہم ابھی جاری ہے اور صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایران اور لبنان کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں: اسرائیلی فوج
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ فوج انتہائی ہائی الرٹ پر ہے اور فضائیہ کے سیکڑوں طیارے فوری کارروائی کے لیے تیار رکھے گئے ہیں جب کہ 10 ہزار فوجی آپریشنل تیاریوں میں مصروف ہیں۔
ایال ضمیر کے مطابق اسرائیلی فوج اس وقت بھی ایران اور لبنان میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فضائی کارروائی شروع کی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ حکام ہلاک ہوئے تھے۔ یہ ایران کے خلاف اسرائیل کی دوسری بڑی فوجی مہم تھی۔ اس سے قبل جون 2025 میں بھی دونوں ممالک کے درمیان 12 روزہ جنگ لڑی جا چکی تھی۔