خامنہ ای کی تدفین کے بعد امریکا اور ایران کے پھر ایک دوسرے پر حملے

ایران کے سرکاری میڈیا نے صوبے کے نائب گورنر کے حوالے سے بتایا کہ بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے قریب واقع اہداف کو بھی نشانہ بنایا
شائع 10 جولائ 2026 09:03am

امریکا اور ایران نے جمعرات تک جاری رہنے والے حملوں کے تبادلے میں ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے کیے، جبکہ مبصرین نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں بہت حد تک کمی کی اطلاع دی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ اس نے 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں سے بعض آبنائے ہرمز کے قریب واقع تھے۔ ایران کے مطابق گذشتہ دو روز میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے صوبے کے نائب گورنر کے حوالے سے بتایا کہ بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے قریب واقع اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکا نے ان تازہ حملوں پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں کویت، بحرین اور قطر میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں جمعرات کو تہران نے کویت، اردن اور عراق میں مزید مقامات پر حملے کیے۔

دوسری جانب، ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر مشہد میں عوام کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد کی سڑکوں پر ہزاروں افراد ایرانی پرچم لہراتے ہوئے موجود تھے، جبکہ بعض افراد ایسے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف قتل کی دھمکیوں پر مبنی نعرے درج تھے۔

خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے پہلے چند گھنٹوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

Read Comments