ایران ٹرمپ کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، امریکی میڈیا کا دعویٰ

اسرائیل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے مبینہ منصوبے سے متعلق خفیہ معلومات واشنگٹن کے ساتھ شیئر کیں
شائع 10 جولائ 2026 09:42am

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسی انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں جن کے مطابق ایران مبینہ طور پر ان کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے رواں ہفتے امریکا کو ایران کی ایک مبینہ سازش سے متعلق آگاہ کیا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کا منصوبہ شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے گزشتہ چند ہفتوں سے بھی ٹرمپ کے خلاف ممکنہ خطرات سے متعلق اطلاعات کا جائزہ لے رہے تھے، تاہم اسرائیل کی جانب سے فراہم کی گئی تازہ معلومات ایک مخصوص مبینہ منصوبے سے متعلق تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام اسرائیلی دعوے کی ابھی تک آزادانہ تصدیق نہیں کر سکے اور نہ ہی اس مبینہ منصوبے پر اسرائیل کی اطلاع سے پہلے ان کی کوئی الگ نگرانی جاری تھی۔

بعض امریکی عہدیداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہ معلومات ایسے وقت میں سامنے لائی گئی ہیں جب صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے آئندہ امریکی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ اس کا مقصد ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا ہو۔

یاد رہے کہ امریکا پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ ایران، 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد، انتقامی کارروائی کے طور پر صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایران اس نوعیت کے الزامات کی ماضی میں تردید کرتا رہا ہے۔

اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کی طرف اشارہ کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران انہیں نشانہ بنانا چاہتا ہے اور ان کا نام مبینہ طور پر ایرانی اہداف کی فہرست میں شامل ہے۔

دوسری جانب امریکی اور ایرانی تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کمزور پڑ چکی ہے، جبکہ سفارتی رابطوں کے باوجود خطے میں تناؤ برقرار ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور دونوں ممالک اگست کے وسط تک جوہری معاہدے کی کسی نئی شکل پر اتفاق رائے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ممکنہ کارروائی کی تیاریاں بھی کی تھیں، تاہم فی الحال سفارت کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

Read Comments