خامنہ ای کی آخری رسومات میں 4 کروڑ 30 لاکھ افراد شریک ہوئے: ایرانی میڈیا کا دعویٰ
ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی چھ روزہ آخری رسومات میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 10 لاکھ سے 4 کروڑ 30 لاکھ کے درمیان افراد نے شرکت کی ہے۔
ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے اس الوداعی سلسلے کو دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ اور عوامی جلوس قرار دیا ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت تہران میں ان کی رہائش گاہ پر امریکا اور اسرائیل کے ایک مشترکہ حملے میں ہوئی تھی، جس کے چار ماہ بعد انہیں سپرد خاک کیا گیا ہے۔
یہ تعزیتی تقریبات ایران اور عراق کے پانچ اہم شہروں تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں منعقد کی گئیں۔ سرکاری طور پر ان رسومات کا آغاز گزشتہ ہفتے تہران کے گرینڈ مصلیٰ مذہبی کمپلیکس سے ہوا تھا، جہاں ہزاروں شہریوں نے سپریم لیڈر کے تابوت کا آخری دیدار کیا۔
اس موقع پر ایران کے علاقائی اتحادیوں کے وفود نے بھی شرکت کی، جن میں غزہ سے حماس اور اسلامک جہاد، لبنان سے حزب اللہ اور یمن سے حوثی شامل ہیں۔
بعد ازاں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا جسد خاکی مختلف شہروں سے ہوتا ہوا مشہد میں امامِ رضا کے مزار کے احاطے میں دفن کردیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان جلوسوں میں عوام کی اتنی بڑی تعداد نے قومی اور مذہبی قیادت سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے شرکت کی، جب کہ اس دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
دوسری جانب آزاد ذرائع یا کسی بھی بین الاقوامی ادارے نے ایرانی میڈیا کی طرف سے بتائے گئے ان اعداد و شمار کی اب تک باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔