ایران سے کشیدگی کے باوجود تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے: امریکی حکام
امریکا نے ایران کے ساتھ حالیہ فضائی حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی شدید دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی نیوز چینل سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری رہیں گے اور امریکا اب بھی اس تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
امیرکی عہدیدار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے اور ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں کو دہشت گردی کی کارروائیاں قرار دیا ہے۔
امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کارکردگی کی بنیاد پر قائم ہے، تاہم ایران کے حالیہ اقدامات ناقابل قبول حد تک ناکام کارکردگی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کے باوجود تہران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔
گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی حالیہ دنوں میں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، کیونکہ اس ہفتے امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف حملے کیے ہیں۔ نیٹو اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ میں اب ایران سے مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔
اجلاس سے واپسی کے دوران صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے بڑھتی ہوئی کشیدگی روکنے کے لیے معاہدہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کچھ دیر پہلے رابطہ کیا۔ وہ بہت زیادہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ معاہدے کے قابل ہیں یا نہیں۔ مجھے یہ بھی یقین نہیں کہ وہ معاہدے کی پاسداری کریں گے، یہی اصل مسئلہ ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات کی خلاف ورزی، مزید حملوں کی مسلسل دھمکیاں اور ایرانی تیل پر پابندیوں کی بحالی، امریکا کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
ادھر امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلاف نئے حملے کیے۔ بعد ازاں امریکی محکمہ خزانہ نے وہ رعایت بھی واپس لے لی جس کے تحت ایران کو اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت حاصل تھی۔
حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی بدستور برقرار ہے، تاہم سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔