’مجھے گرفتار یا قتل کیا جا سکتا ہے‘، شیخ حسینہ کا بنگلہ دیش واپسی کا اعلان
بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دسمبر میں بھارت سے وطن واپس جا کر عدالت میں خود کو پیش کریں گی۔ رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گرفتاری یا موت کا خطرہ ہونے کے باوجود وہ اپنی سرزمین پر واپس جانا چاہتی ہیں۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی جماعت عوامی لیگ کے سینئر رہنما دسمبر کے آس پاس ملک واپس جا کر عدالت میں خود کو پیش کریں گے، حالانکہ انہیں اپنے ملک میں سزائے موت کا سامنا ہے اور ان کی جماعت پر پابندی عائد ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو دیے گئے تقریباً ایک گھنٹے کے ٹیلی فونک انٹرویو میں 78 سالہ شیخ حسینہ نے کہا کہ واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے یا حتیٰ کہ قتل بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ وطن لوٹنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کو شدید دباؤ اور مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موت آنی ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اپنی سرزمین پر آئے، جہاں میرے والدین دفن ہیں اور جہاں ان کا خون بہا تھا۔
شیخ حسینہ 2024 میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے بعد بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔ بعد ازاں بنگلہ دیش کی جنگی جرائم کی عدالت نے طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کے مقدمے میں انہیں غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی حکومت مسلسل بھارت کو خطوط لکھ کر ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے، تاہم وہ کسی بھی ملک کی مدد کے بغیر خود واپس جائیں گی۔ ان کے بقول انہوں نے اپنی واپسی کے حوالے سے کسی غیر ملکی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے بعد عوام خود دیکھ لیں گے کہ عدالتی عمل کس حد تک منصفانہ ہے۔
شیخ حسینہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے تقریباً تمام رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور بہت سے افراد روپوش زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی لیگ کی تنظیم نو کے لیے وہ آن لائن اجلاسوں کے ذریعے ملک کے مختلف حلقوں سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی جماعت نے غلطیاں کی ہیں تو اس کا فیصلہ عوام کو کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا سکتا ہے، لیکن عوامی لیگ کو سیاسی عمل سے باہر کرنا درست نہیں۔
’رائٹرز‘ کے مطابق شیخ حسینہ نے ابھی واپسی کی حتمی تاریخ یا یہ نہیں بتایا کہ وہ کس عدالت میں خود کو پیش کریں گی، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے وطن واپسی کے لیے باقاعدہ ٹائم فریم دیا ہے۔