ٹرمپ کے صدارتی طیارے میں سیکیورٹی کا مبینہ مسئلہ، خبر دینے والے صحافیوں کے خلاف کارروائی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور میڈیا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں وزارتِ انصاف نے سیکیورٹی معلومات افشا ہونے کی تحقیقات کے سلسلے میں نیویارک ٹائمز کے متعدد صحافیوں کو گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہونے کے لیے سمن جاری کر دیے ہیں۔
العربیہ اردو نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا حوالیہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی وزارتِ انصاف نے اخبار کے کئی صحافیوں کو نئے صدارتی طیارے ”ایئر فورس ون“ سے متعلق حساس معلومات افشا ہونے کی مجرمانہ تحقیقات کے دوران سمن جاری کیے ہیں۔
اخبار نے ہفتے کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی اداروں کے اہلکاروں نے جمعے کے روز صحافیوں کو سمن پہنچائے، جن میں سے کچھ سمن ان کے گھروں پر بھی دیے گئے۔
صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ ہفتے مانهٹن میں گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہوں اور معلومات افشا ہونے سے متعلق تحقیقات میں گواہی دیں۔
رپورٹ کے مطابق سمن حاصل کرنے والے صحافیوں میں جولین ای بارنز، ایرک لپٹن، ٹائلر پیجر اور ایرک شمٹ شامل ہیں۔ ان صحافیوں نے اسی ہفتے نئے صدارتی طیارے سے متعلق دو اہم رپورٹس شائع کی تھیں۔
نیویارک ٹائمز کی پہلی رپورٹ بدھ کو سامنے آئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیکرٹ سروس کی سفارش پر ترکیہ سے روانگی کے لیے پرانے صدارتی طیارے ”وی سی 25 اے“ کا استعمال کیا، کیونکہ نئے طیارے کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات موجود تھے۔
اخبار کی دوسری رپورٹ جمعرات کو شائع ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نیا عبوری صدارتی طیارہ ”وی سی 25 بی بریج“ موجودہ صدارتی طیاروں میں موجود بعض جدید دفاعی سہولیات سے محروم ہے۔ ان سہولیات میں میزائل حملوں سے بچاؤ کا نظام بھی شامل ہے۔ یہ طیارہ بوئنگ 747-8 ماڈل پر مبنی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے صحافیوں کو جاری کیے گئے سمنز کو دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ وہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم، جو آزادی صحافت کا تحفظ کرتی ہے، کے تحت ان اقدامات کو عدالت میں چیلنج کرے گا۔
تاحال امریکی انتظامیہ نے اس تحقیقات یا صحافیوں کو جاری کیے گئے سمنز کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔