امریکا اور ایران کی ایک دوسرے پر ہولناک بمباری کے بعد پورا مشرقِ وسطیٰ ہائی الرٹ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری لڑائی اب ایک بہت ہی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں شدید خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ دونوں طاقتیں ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کر رہی ہیں۔
امریکی فوج نے ایران کے پانچ صوبوں کے نو مختلف شہروں پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا ہے، جس میں 140 سے زیادہ جگہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران کے شہر کرمان میں ایک مواصلاتی ٹاور پر امریکی حملے کے بعد مقامی اہلکار رحمان جلالی نے بتایا کہ اس واقعے میں دو لوگ زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال پہنچایا گیا ہے۔
دوسری طرف ایران نے بھی بدلہ لیتے ہوئے کویت، قطر، اردن اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اور سب سے اہم سمندری راستے، یعنی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد وہاں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔
اس جنگ کی وجہ سے ایران اور امریکا کے درمیان امن قائم کرنے کا جو پرانا معاہدہ ہوا تھا، وہ اب پوری طرح ٹوٹتا ہوا نظر آرہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صاف کہہ دیا ہے کہ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے، جبکہ ایران کے بڑے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ اب یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔
امریکا نے دو دن پہلے ایران پر نئی پابندیاں لگائی تھیں اور اب یہ پانچویں بار ہے کہ دونوں طرف سے اتنے بڑے حملے ہوئے ہیں۔
تہران سے ملنے والی خبروں کے مطابق پچھلی چند راتوں میں امریکا نے ایران کے ساحلی اور معاشی مراکز پر سب سے بھاری بمباری کی ہے، جس سے پورٹ اور بحری جہازوں کے کھڑے ہونے والی جگہوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ایران کے ان جوابی حملوں کی وجہ سے خطے کے دوسرے ممالک بھی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔
قطر پر ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں کے ملبے سے تین لوگ زخمی ہو کر اسپتال پہنچ گئے ہیں۔
اس واقعے کے بعد قطر کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے تمام شہریوں اور کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عوام کی حفاظت کے لیے اپنی تمام کشتیاں، جٹ سکیز اور مچھلی پکڑنے والے جہاز عارضی طور پر روک دیں۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے اس قدم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کا جاری رہنا ایک خطرناک صورتحال ہے جو خطے میں امن قائم کرنے کی سیاسی اور سفارتی کوششوں کو تباہ کر دے گی، اور قطر اس جارحیت اور اس کے تمام نتائج کی پوری قانونی ذمہ داری ایران پر عائد کرتا ہے۔
اسی طرح کویت نے بھی اپنے ملک پر ہونے والے ایرانی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں کا سلسلہ ایک انتہائی خطرناک عمل ہے جس سے خطے میں بے امنی پھیلے گی، اور کویت بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی حفاظت اور خود مختاری کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا پورا حق رکھتا ہے۔
دوسری طرف متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان کے حفاظتی نظام چوبیس گھنٹے پوری طرح الرٹ ہیں اور آج صبح جو میزائل دیکھے گئے، وہ ان کے ملک کی سرحدوں سے باہر تھے۔
سعودی عرب نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے اس رویے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ تجارتی جہازوں پر بار بار حملے کرنا بین الاقوامی قوانین اور اچھے پڑوسیوں کے اصولوں کے خلاف ہے۔
اگرچہ اس بار سعودی عرب کو نشانہ نہیں بنایا گیا، لیکن پچھلے ہفتے ان کا ایک تیل کا جہاز آبنائے ہرمز میں متاثر ہوا تھا۔
اب حالات اتنے غیر یقینی ہو چکے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، کیونکہ ایک طرف ایران بدلے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف سفارتی بات چیت کا راستہ بھی کھلا رکھنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔