امریکا اور ایران کی ایک دوسرے کے اہداف پر رات بھر شدید بمباری؛ خطے کے کئی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

امریکا نے پچھلے تین دنوں میں ایران پر 310 سے زیادہ حملے کیے ہیں: یو ایس سینٹ کام
شائع 13 جولائ 2026 08:55am

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں انتہائی ہولناک تیزی آ گئی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر اب تک کے سب سے بڑے حملے کیے ہیں۔ امریکی فوج نے ایران کے خلاف کارروائی کا ایک نیا اور بہت بڑا مرحلہ شروع کیا ہے جس کے تحت پچھلے تین دنوں میں مجموعی طور پر 310 سے زیادہ حملے کیے جا چکے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ حملے امریکی وقت کے مطابق شام پانچ بجے امریکی کمانڈر ان چیف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع کیے گئے ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ”صدر ٹرمپ نے ایرانی افواج کو دنیا کے سامنے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ان حملوں کا حکم دیا ہے تاکہ ایران کی طرف سے عام بحری جہازوں اور ملاحوں کو نشانہ بنانے کی طاقت کو کمزور کیا جا سکے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کا راستہ محفوظ بنایا جا سکے۔“

ایرانی میڈیا کے مطابق، ان امریکی حملوں کے بعد ایران کے اہم ساحلی شہر بندر عباس، جزیرہ قشم، سیرک اور جاسک میں انتہائی زوردار دھماکے سنے گئے۔

امریکی فوج نے پہلی بار اس جنگ میں لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ ہوا اور سمندر میں خود ہی جا کر پھٹنے والے خودکش ڈرون طیاروں کا استعمال بھی کیا ہے جن کی مدد سے ایران کے فوجی ریڈاروں، میزائلوں، اور چھوٹی جنگی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کے صوبے خوزستان کے ڈپٹی گورنر ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ امریکی فورسز نے ان کے صوبے کے آٹھ مختلف مقامات پر رات کے اندھیرے میں بمباری کی۔

انہوں نے افسوسناک تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ماہشہر کے علاقے میں کھیتوں کو پانی دینے والے ایک سرکاری واٹر پمپنگ اسٹیشن پر امریکی پروجیکٹائل لگنے سے وہاں موجود ایک چوکیدار جاں بحق ہو گیا ہے جبکہ چار دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف، ایران نے بھی ان امریکی حملوں کا انتہائی سخت جواب دیتے ہوئے خطے کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کی برسات کر دی ہے۔

ایران کی نیوز ایجنسی ’نور‘ کے مطابق، ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود ’”دشمن کے اڈوں“ پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے الگ الگ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن کے ’پرنس حسن ایئربیس‘ پر میزائل داغ کر وہاں موجود امریکی تیل کے گوداموں اور بارود کے ذخائر کو آگ لگا دی ہے، جبکہ بحرین کے ’شیخ عیسیٰ ایئربیس‘ پر بھی حملہ کر کے امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں اور ڈرون کنٹرول روم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کے کویت پر حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی بیلسٹک میزائل امریکی ’اے ٹی اے سی ایم ایس‘ میزائل سسٹم پر لگے جس میں تین امریکی فوجی مارے گئے۔

واضح رہے کہ تین دن قبل یہ کارروائیاں ایران کے اس ایکشن کے بعد شروع ہوئیں جب ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں دو ایسے جہازوں کو روکنے کی کوشش کی تھی جنہوں نے اپنے راستے بتانے والے سسٹم بند کر رکھے تھے اور وہ ”غیر قانونی“ طریقے سے سفر کر رہے تھے۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں یہ جوابی کارروائیاں جاری رکھے گا جبکہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر سمندری راستوں کو کھلا رکھیں گے اور ایران کے ایسے کسی بھی اقدام کا طاقت سے جواب دیں گے۔ دونوں طرف سے جاری اس شدید بمباری نے پورے علاقے کو ایک ہولناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

Read Comments