امریکا کے مسلسل حملے، روس نے اپنا 'ڈومز ڈے کمانڈ سینٹر' طیارہ تہران بھیج دیا
امریکا کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے مسلسل حملوں کے بعد روس مبینہ طور پر کھل کر ایران کی مدد کے لیے میدان میں آتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس نے اپنا سب سے خاص اور جدید ترین ’دومز ڈے‘ فوجی طیارہ، جسے ’ٹی یو-214 پی یو‘ کہا جاتا ہے، ایران کے دارالحکومت تہران بھیج دیا ہے۔
اس طیارے کو اڑتا ہوا کمانڈ سینٹر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ روس کا وہ خاص جہاز ہے جو کسی بھی بڑی جنگ یا ہنگامی صورتحال کے وقت اڑان بھرتا ہے اور اس کے اندر بیٹھ کر روس کے بڑے لیڈر اور فوجی کمانڈر محفوظ طریقے سے پوری جنگ کو چلا سکتے ہیں اور اپنے ملک سے رابطہ رکھ سکتے ہیں۔
یہ طیارہ ایک ایسے وقت میں تہران پہنچا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون کے مہینے میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، لیکن پچھلے ہفتے آبنائے ہرمز کے سمندری راستے میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے بعد یہ جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
روس کے اس قدم سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ روس اور ایران کے تعلقات کتنے گہرے ہیں اور روس مشکل کی اس گھڑی میں ایران کو اکیلا نہیں چھوڑ رہا۔
اس طیارے کو تہران کی جانب بھیجنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ روس اب ایران کے ساتھ جنگی معلومات شیئر کر رہا ہے، اسے سیاسی اور فوجی مشورے دے رہا ہے یا پھر کسی بڑے خطرے سے نمٹنے کے لیے مل کر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اور اس طیارے کا ایک مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت کو وہاں سے نکالنا بھی ہوسکتا ہے۔
دوسری طرف، میدانِ جنگ سے آنے والی خبریں انتہائی خوفناک ہیں۔
ایران کی سرکاری فوج، پاسدارانِ انقلاب نے پیر کے روز ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کویت میں موجود امریکی فوج کے بڑے اڈے ’علی السالم‘ پر حملہ کر کے وہاں تیل کے ٹینکوں اور پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے کویت کے ایک اور اڈے ’احمد الجابر‘ پر لگے امریکی ریڈار سسٹم کو بھی اڑا دیا ہے۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان کی اس مہم کا تیسرا حصہ ہیں جس کا نام انہوں نے ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ رکھا ہے، اور یہ سب امریکا کے حملوں کا بدلہ ہے۔
اس سے پہلے ایران نے بحرین میں بھی امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں کی ورکشاپ اور ڈرون کنٹرول روم پر بمباری کا دعویٰ کیا تھا۔
امریکا کی طرف سے بھی ایران پر مسلسل بمباری کی جا رہی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی وقت کے مطابق پیر کی شام پانچ بجے ان کے کمانڈر ان چیف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف مزید نئے حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا اصل مقصد ایران کی اس طاقت کو توڑنا ہے جس کے ذریعے وہ سمندر سے گزرنے والے عام تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر حملے کرتا ہے۔
اب روس کے اس اڑتے ہوئے کمانڈ طیارے کے ایران پہنچنے کے بعد یہ جنگ ایک بہت ہی خطرناک اور بڑے عالمی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔