فلم 'جراسک پارک' کے مشہور کردار چل بسے
ڈائناسور کی دنیا پر بنی ہالی ووڈ کی مشہور ترین فلم ’جراسک پارک‘ کے مرکزی اداکار سیم نیل 78 برس کی عمر میں چل بسے۔ ان کے خاندان نے سوشل میڈیا پر اس افسوسناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آج آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ان کا انتقال ہوگیا، جہاں زندگی کے آخری لمحات میں ان کا پورا خاندان ان کے ساتھ موجود تھا۔
خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سیم نیل کا انتقال اچانک اور غیر متوقع ہے۔ انہوں نے پوری زندگی وقار اور حوصلے کے ساتھ گزاری اور آخری لمحات میں بھی اسی وقار کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے۔ تاہم وہ اپنی زندگی کے آخری وقت تک کینسر سے بالکل صحتیاب ہوچکے تھے۔ اہل خانہ نے سڈنی کے سینٹ ونسنٹ پرائیویٹ اسپتال کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عوام اور میڈیا سے درخواست کی کہ غم کی اس گھڑی میں خاندان کی نجی زندگی اور رازداری کا احترام کیا جائے۔
ان کی موت کی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی۔ تاہم سیم نیل نے 2023 میں اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب میں بتایا تھا کہ انہیں 2022 میں خون کے ایک نایاب سرطان، اسٹیج تھری اینجیو امیونوبلاسٹک ٹی سیل لمفوما، کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ اس کا علاج کروا رہے تھے۔ بعد ازاں بیماری قابو میں آ گئی تھی، اگرچہ وہ ہر ماہ علاج جاری رکھے ہوئے تھے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے بھی سیم نیل کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیم نیل نے آسٹریلوی فلمی دنیا کو کئی یادگار کردار دیے اور اپنی سنجیدہ شخصیت، مزاح اور وقار کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں خاص مقام بنایا۔ ان کے مطابق سیم نیل نے بیماری کا مقابلہ بھی اسی حوصلے اور وقار کے ساتھ کیا جس نے ان کی اداکاری کو منفرد بنایا، اور انہیں طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
سرسیم نیل 14 ستمبر 1947 کو شمالی آئرلینڈ کے شہر اوما میں پیدا ہوئے تھے۔ 1954 میں اپنے خاندان کے ساتھ نیوزی لینڈ منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں انہوں نے قانون کی تعلیم شروع کی، لیکن بعد میں اداکاری کو اپنا پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا اور تھیٹر سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔
فلمی دنیا میں انہیں پہلی بڑی کامیابی 1977 کی نیوزی لینڈ کی فلم ”سلیپنگ ڈاگز“ سے ملی، جو امریکا میں سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی پہلی نیوزی لینڈ فلم بھی تھی۔
اس کے بعد انہوں نے متعدد کامیاب فلموں میں کام کیا، جن میں ”مائی برلینٹ کیریئر“، ”اومن تھری: دی فائنل کانفلکٹ“، ”دی ہنٹ فار ریڈ اکتوبر“، ”ڈیڈ کالم“، ”دی جنگل بک“، ”ایونٹ ہورائزن“، ”بائی سینٹینیئل مین“، ”پیٹر ریبٹ“ اور ”ہنٹ فار دی وائلڈرپیپل“ شامل ہیں۔
بین الاقوامی شہرت انہیں 1993 میں اس وقت ملی جب انہوں نے جین کیمپین کی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ”دی پیانو“ اور اسٹیون اسپیلبرگ کی بلاک بسٹر فلم ”جراسک پارک“ میں اداکاری کی۔
ان کا ’ڈاکٹر ایلن گرانٹ‘ کا کردار فلمی تاریخ کے یادگار کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے بعد میں ”جراسک پارک تھری“ اور تقریباً تین دہائیوں بعد ”جراسک ورلڈ: ڈومینین“ میں بھی اسی کردار کو دوبارہ نبھایا۔
پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے کیریئر میں سیم نیل نے 150 سے زیادہ فلموں اور ٹیلی وژن پروگرامز میں کام کیا۔ ٹی وی پر بھی وہ ”پیکی بلائنڈرز“، ”دی ٹیوڈرز“، ”دی ٹویلو“، ”دی سمپسنز“ اور ”رک اینڈ مورٹی“ جیسے معروف پروگراموں میں نظر آئے۔ انہیں منی سیریز ”ریلی، ایس آف اسپائیز“ کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈ کی نامزدگی بھی ملی۔
اداکاری کے علاوہ سیم نیل کو انگور کی کاشت اور وائن میکنگ کا بھی شوق تھا۔ وہ نیوزی لینڈ کے سینٹرل اوٹاگو علاقے میں ”ٹو پیڈاکس“ کے نام سے اپنا انگور کا باغ چلاتے تھے اور اکثر اپنی فارم کی زندگی کی جھلکیاں مداحوں کے ساتھ شیئر کرتے تھے۔
2023 میں شائع ہونے والی اپنی یادداشتوں کی کتاب “ڈِڈ آئی ایور ٹیل یو دِس؟“میں انہوں نے اپنی بیماری، علاج اور ذاتی زندگی کے بارے میں کھل کر لکھا تھا۔ ان کے مطابق کیموتھراپی کے دوران اس کتاب کی تحریر نے انہیں زندگی میں مقصد اور حوصلہ فراہم کیا۔
سر سیم نیل اپنے پیچھے نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ایک کامیاب فلمی ورثہ چھوڑ گئے ہیں۔ نیوزی لینڈ سے ہالی ووڈ تک ان کی خدمات کو سراہا جاتا رہا، جبکہ دنیا بھر میں فلموں کے شائقین انہیں ان کے یادگار کرداروں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔