امریکا نے جنگ ختم نہ کی تو اسلام آباد معاہدے پر مزید عمل نہیں کریں گے: ایران
امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید لڑائی کے دوران اب سفارتی محاذ پر بھی بیانات کا تند و تیز سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک ایران پر وعدہ خلافی کا الزام نہیں لگا سکتا۔
انہوں نے تہران میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی یادداشت ’اسلام آباد ایم او یو‘ کے تحت اپنے تمام وعدے پورے کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر معاملے میں ہمارے اور دوسری پارٹی کے فرائض بالکل صاف تھے، اور یہ بات دستاویزات کے ساتھ ثابت کی جا سکتی ہے کہ دوسری پارٹی یعنی امریکا نے مختلف بہانوں سے اس معاہدے کے کئی حصوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران امریکا پر زور دیا کہ وہ عارضی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہر مذاکرات میں ایرانی قوم کے فائدے اور تحفظ کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ سنجیدگی دکھائی ہے، اور جب بھی کوئی معاہدہ ہوا، ایران نے اسے پورا کرنے میں ہمیشہ سچائی دکھائی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کبھی بھی اپنے وعدے توڑنے میں پہل نہیں کرتا، لیکن اگر واشنگٹن نے جنگ ختم کرنے کے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو ایران بھی اس معاہدے پر مزید عمل نہیں کرے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جب بھی دوسری پارٹی اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی، ہم نے بھی اپنے قدم پیچھے ہٹا لیے، اور ہم آگے بھی اسی طرح کا رویہ اپنائیں گے۔
اس کے ساتھ ہی ایرانی ترجمان نے یہ بھی اعلان کیا کہ اپنے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور مارے جانے والے تمام شہریوں کے خون کا انصاف لینا ایرانی حکومت کا ایک اہم ترین اصول ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض بالکل صاف ہے اور وزارتِ خارجہ اس کام میں لگی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا اور اسرائیل کے جرائم کو دنیا کے سامنے لانے اور انصاف قائم کرنے کے لیے تمام قانونی اور بین الاقوامی راستے اور موقعے استعمال کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزارنے کے لیے عمان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ طریقہ کار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مسقط پر امریکی دباؤ کی وجہ سے ان کوششوں میں رکاوٹیں آ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ لڑائی پچھلے ایک ہفتے میں اس وقت دوبارہ بھڑکی جب چھ جولائی کو ایران نے عمان کے قریب قطر کے گیس کے جہاز سمیت تین تجارتی جہازوں پر حملہ کیا۔
اس کے اگلے ہی دن امریکا نے بدلے میں ایران کے فوجی ٹھکانوں پر بمباری کی، جس کے جواب میں ایران نے خلیج میں موجود ان تمام فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون داغ دیے جہاں امریکی فوج موجود ہے۔
بدھ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کو بتایا کہ اب جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، جس سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔
اس کے بعد ہفتے کو ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا اور دونوں طرف سے شہروں پر بمباری شروع ہو گئی، جس نے اب پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔