خلا میں زندگی کے آثار؟ ستاروں کے درمیان چینی دریافت

یہ وہی قدرتی چینی ہے جو عام طور پر رسبری اور رنگ گورا کرنے والی کریموں میں پائی جاتی ہے۔
شائع 14 جولائ 2026 12:13pm

آسمان کی وسعتوں میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے خلا کو تھوڑا میٹھا بنا دیا ہے۔ سائنسدانوں نے خلا میں ستاروں کے درمیان موجود گیس اور گرد کے بادلوں میں ایک پیچیدہ قسم کی چینی دریافت کی ہے، جسے ”ایریتھرولوز“ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ ہماری کہکشاں کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق پیر کے روز معروف سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ یہ خاص قسم کی چینی دودھیا کہکشاں (ملکی وے) کے مرکز کے قریب موجود ایک بڑے گیس کے بادل میں دریافت کی گئی۔

اس اہم کامیابی کے لیے اسپین میں لگی ڈش نما دو بڑی ریڈیو دوربینوں کا استعمال کیا گیا جن کی مدد سے ہماری کہکشاں کے مرکز کے قریب موجود ایک بڑے گیس کے بادل کا جائزہ لیا گیا۔

سائنسدانوں نے لیبارٹری میں موجود نمونوں سے دوربین کے اشاروں کا موازنہ کر کے اس گیس نما شکر کی نشاندہی کی۔

ماہرین کے مطابق یہ وہی قدرتی چینی ہے جو عام طور پر ہمارے ہاں رسبری نامی پھل اور رنگ گورا کرنے والی کریموں میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ خود زندگی کے لیے ضروری جزو نہیں، لیکن یہ آسانی سے ایسی شکل اختیار کر سکتی ہے جو زمین پر زندگی کے آغاز میں اہم کردار ادا کرنے والی چینی سمجھی جاتی ہے۔

ہمارے لیے چینی صرف چائے کو میٹھا کرنے یا مٹھائیاں بنانے کے کام ہی نہیں آتی بلکہ یہ ہمارے جسم کے چھوٹے چھوٹے خلیوں کو چلانے اور ہماری نسل کو آگے بڑھانے والے نظام یعنی ڈی این اے کو بنانے کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ خلا میں چینی کیسے بنتی ہے اور اس کا زندگی کے آغاز سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف ایریزونا کی ماہر فلکیات ایریکا ہیمڈن، جو خود اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، کہتی ہیں کہ یہ دریافت اس مواد کی ایک شاندار اور اصل مثال ہے جو ہماری پوری کہکشاں میں بس یوں ہی آزادانہ طور پر تیر رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ چینی بذات خود تو زندگی شروع کرنے کے لیے کافی نہیں ہے لیکن یہ بہت آسانی سے ایسی شکل میں بدل سکتی ہے جو زمین پر زندگی کی شروعات کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

سائنسدان طویل عرصے سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی۔ کیا باہر سے آنے والے دمدار ستاروں یا خلائی چٹانوں نے زندگی کے لیے ضروری چیزیں ہم تک پہنچائیں یا پھر یہ بنیادی اجزاء پہلے سے ہی خلا میں موجود تھے جن سے بعد میں ہمارا پورا نظام شمسی بنا۔ اب ملنے والی یہ نئی چینی دوسری بات کو زیادہ مضبوط کرتی ہے کہ یہ چیزیں پہلے سے ہی خلا میں تیر رہی تھیں۔

سائنسدانوں نے اس سے پہلے بھی ملکی وے کے مرکز کے قریب عام کھانے کی چینی سے ملتی جلتی ایک اور قسم دریافت کی تھی۔ اس کے علاوہ ناسا کے اوسیریس ریکس مشن کے ذریعے سیارچے بینو لائے گئے نمونوں میں بھی مختلف اقسام کی چینی ملی تھیں، جن میں ڈی این اے کی تشکیل کے لیے اہم ایک جزو بھی شامل تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ نئی دریافت اس نظریے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ زندگی کے بنیادی کیمیائی اجزا ہمارے نظامِ شمسی بننے سے پہلے ہی خلا میں موجود تھے اور بعد میں انہی اجزا سے سیارے اور دیگر اجرام تشکیل پائے۔

اسپین کے سینٹر فار ایسٹرو بائیولوجی سے تعلق رکھنے والی اور اس تحقیق کی مصنفہ ازاسکون جیمینیز سیرا کہتی ہیں کہ زندگی کے آغاز کے لیے یہ ضروری بنیادی اجزاء کہکشاں کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں، جس سے کائنات میں کسی دوسری جگہ پر بھی زندگی کے پیدا ہونے اور پھلنے پھولنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق اگر یہ چینی ایک جگہ ملی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ کائنات کے دوسرے دور دراز کونوں میں بھی چھپی ہو سکتی ہے۔

ماہرین اب مزید تحقیقات کے ذریعے خلا میں موجود دیگر اقسام کی چینی تلاش کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ مادے کس طرح ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتے ہیں اور زندگی کی ابتدا میں ان کا کیا کردار رہا ہوگا۔

Read Comments